30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ نظامِ قدرت ہے کہ بسا اَوقات ایک ہی بندہ کئی کئی رشتوں سے منسلک ہوتا ہے ، اگر وہ خود بیٹا ہے تو کسی بیٹے کا والد یاکسی کا بھائی بھی ہوتا ہے ، کوئی بیٹا یا بھائی ہونے کے ساتھ شوہر بھی ہوتا ہے ، بسا اوقات وہ خود نگران ہوتا ہے اور اس کے ماتحت کئی افراد ہوتے ہیں اور کبھی وہ نگران نہیں ہوتا بلکہ کسی نہ کسی نگران کےماتحت ہوتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی نہ کسی اِدارے یا شعبے میں کسی ذمہ داری پر فائز ہوتا ہے۔ الغرض انسان جہاں بھی ہو ، جس حیثیت سے بھی رہے ، اسے شریعت کا دامن ہمیشہ تھامے رہنا چاہیے اور خود شریعت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت اَفراد یا متعلقین کو بھی دِین پر سختی سے کاربند رہنے کا ذہن دینا چاہیے ، اگر کوئی گھر کا سربراہ ہے تو اپنے اَہل و عیال کو ، نگران ہے تو اپنے ماتحت اَفراد کو ، اُستاد ہے تو اپنے طلباء کو ، حاکم ہے تو اپنی رِعایا کو شریعت پر عمل کرنے کا حکم دے ، اُنہیں بُرائی سے منع کرے اور اَخلاقِ حسنہ کی تعلیم دے کہ یہ اُ س کی ذمہ داری ہے اور بعض صورتوں میں تو اُس پر اِطاعتِ اِلٰہی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا واجب ہوتا ہے نیز معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے متعلقین کی اِصلاح کرتا رہے ، قرآن و حدیث میں تواتر کے ساتھ اپنے اہل و عیال ، رشتہ داروں اور ماتحت لوگوں کی اِصلاح کرنے کا عظیم درس دیا گیا ہے۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی اِنہی تمام اُمور سے متعلق ہے ، علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں 2آیات اور5اَحادیثِ مبارکہ بیان فرمائی ہیں۔ پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ- (پ۱۶ ، طہ : ۱۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ۔
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی تو حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا آٹھ مہینے تک یہ معمول رہا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پر صبح کی نماز میں تشریف لے جاتے اور نماز کے لیے یوں صدا لگاتے : ’’نماز ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے۔ ‘‘ پھر یہ آیت تلاوت فرماتے :
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) (پ۲۲ ، الاحزاب : ۳۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کردے۔ ([1])
حضرت سیدنا اَسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رات گئے تک نماز ادا فرماتے رہتے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ آتا تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لیے اُٹھاتے ہوئے یوں صدا لگاتے : ’’نماز ، نماز۔ ‘‘ پھر یہی آیتِ مبارکہ تلاوت فرماتے۔ ([2])
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ گھر میں رہنے والے تمام لوگ انسان کے اہل کہلاتے ہیں بیویاں ، اولاد ، بھائی برادر وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ نمازی کامل وہ نہیں جو صرف خود نماز پڑھ لیا کرے ، بلکہ وہ ہے جو خود بھی نمازی ہو اور اپنے سارے گھر والوں کو نمازی بنادے۔ تیسرے یہ کہ حکم نماز کی نوعیتیں جداگانہ ہیں ، چھوٹے بچوں اور بیوی کو مار کر نماز پڑھائے ، بھائی برادر کو زبانی حکم دے۔ ‘‘([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ نہ صرف خود پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا کریں بلکہ ہر بار کم ازکم کسی ایک کو اپنے ساتھ مسجد میں لے جانے کی کوشش بھی کریں اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور مساجد آباد ہوں گی ، شیطان لعین کا منہ کالاہوگا اور اِسلام کا بول بالا ہوگا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(2)اپنے گھروالوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ۲۸ ، التحریم : ۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ۔
حضرت سیدنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی تو لوگوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع