30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعظم‘‘جلداول ، صفحہ ۱۳۰ پر ہے :
پسندیدہ زمین راہِ خدا میں وقف کردی:
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میرے والدِ گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حصے میں خیبر کی کچھ زمین آئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم” یہ خیبر کی زمین میرے حصے میں آئی ہے اور اس سے نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا ، آپ ارشاد فرمائیں کہ میں اس زمین کا کیا کروں؟ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے عمر! اگر تم چاہو تو اُسے اپنی ملکیت ہی میں رکھو اور اُس کے منافع راہِ خدا میں صدقہ کردو۔ ‘‘ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُس زمین کو ایسے صدقہ کیا کہ نہ تو اُس کو بیچا جائے گا ، نہ ہی ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اُس میں وراثت جاری ہوگی بلکہ اُس کی آمدنی کو فقراء ، رشتہ داروں ، مُسافروں ، مہمانوں اور راہ ِخدا میں خرچ کیا جائے گا اور اُس کے متولی کو اجازت ہے کہ اُس میں سے(بطورِ اجرت لےکر)خودیا دوستوں کو کھلائے ہاں اُسے مال نہ بنائے۔ ([1])
رِضائے اِلہٰی کے لیے اپنی خواہش کی قربانی:
حضرتِ سَیِّدُنا ربیع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فالج کا مَرض لاحق ہوا ، جب کبھی آپ کے دروازےپر مانگنے والا آتاتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی اہلیہ کو فرماتے : ’’اُسے شکر دے دو۔ ‘‘ کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو شکربہت پسند تھی۔ بیماری طویل ہوگئی اور ایک دن آپ کو مُرغی کا گوشت کھانے کی خواہش ہوئی مگر چالیس دِن تک اپنے نفس کو روکتے رہے کہ شاید یہ خواہش ختم ہوجائے لیکن خواہش ختم نہ ہوئی تو اپنی زوجہ سے سارا ماجرا بیان کردیا۔ تو اُنہوں نے عرض کی : ’’جب ایک چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے لیے حلال فرمائی ہے تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو آپ کو اِس سے روکتی ہے۔ ‘‘ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ نے خادمہ کو بازار بھیج کر مُرغی کا گوشت منگوایا ، اُسے پکایا اور پھر دستر خوان لگادیا۔ کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اچانک دروازے پر سائل کی صدا آئی : ’’مجھے صدقہ دو ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراً ہاتھ روک لیا اور زوجہ سے فرمایا : ’’یہ کھانا اس سائل کو دے دو۔ ‘‘ زوجہ نے تعجب کا اظہار کیا تو فرمایا : ’’جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو۔ ‘‘ زوجہ نے عرض کیا : ’’میں وہ کرنا چاہتی ہوں جو اِس سے بہتر ہے۔ ‘‘ فرمایا : ’’وہ کیا ہے؟‘‘ عرض کیا : ’’میں اِس کھانے کی قیمت اُس سائل کو دے دیتی ہوں اور آپ یہ کھانا کھا کر اپنی خواہش پوری کرلیں۔ ‘‘ فرمایا : ’’بہت اچھا! جاؤ اِس کھانےکی قیمت لے آؤ۔ ‘‘ زوجہ جب اُس کھانے کے پیسے لے کر آئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’کھانے کے پیسے اور یہ کھانا دونوں سائل کو دے دو۔ ‘‘ چنانچہ زوجہ نے آپ کے حکم پر عمل کیا اور دونوں چیزیں سائل کو دے دیں۔ ([2])اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پررحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
’’قرآن ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں اپنا پسندیدہ مال ہی خرچ کرنا چاہیے کہ قرآن وسنت میں اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔
(2)حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اَصحاب کے باغات وغیرہ میں تشریف لے جایا کرتے تھےبلکہ وہاں کا پانی وغیرہ بھی نوش فرمایا کرتے تھے۔
(3)دِینی اُمور کی معلومات کے لیے اَہل علم و فضل سے مُشاوَرَت کرلینی چاہیے تاکہ درست اور بہتر انداز میں راہنمائی ہوسکے۔
(4)راہِ خدا میں جب بھی خرچ کرنا ہوتو سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے، خصوصاً جبکہ وہ محتاج ونادار ہوں کہ ایسا کرنا افضل ہے کیونکہ اِس میں دو اجر ہیں، ایک تو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا اجر اور دوسرا صلہ رحمی کرنے کا اجر۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں ہماری سب سے پسندیدہ چیزیں اور مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمارے رِزقِ حلا ل میں برکت عطافرمائے ، ہمیں تنگدستی سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
با ب نمبر : 38 اہل و عیال و ماتحت افرادکی اِصلاح کا بیان
اپنے اہل و عیال اور ماتحت افرادکواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کا حکم دینے ، مخالفت سے روکنے ،
ادب سکھانے اور ممنوعات کے ارتکاب سے منع کرنے کےوجوب کا بیان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع