30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے مراد یہ ہے کہ تم جنت میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوگے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز صدقہ نہ کردویعنی تم خوشدلی سے اپنےمالوں کی زکٰوۃ نکالو۔ ‘‘([1])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ’’اِس میں اِس بات پر دلالت ہے کہ محبوب ترین مال کو سب سے قریبی رشتے داروں پر خرچ کرنا اَفضل ہے ۔ ‘‘([2])
دوستوں کے باغات میں جانا، پھل کھانا:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک میں اِس بات کی دلیل ہے کہ بھائیوں یا دوستوں کے باغ میں جانا ، وہاں کا پانی پینا ، بلا اِجازت اُس باغ کے پھل وغیرہ کھانا مباح ہے جبکہ اِس بات کا علم ہو کہ وہ اِن تمام اَفعال سے ناراض نہیں بلکہ خوش ہوں گے۔ ‘‘([3])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ اَہلِ عِلم وفضل حضرات کا باغات وغیرہ میں جانا ، اُن کے درختوں کے سائے میں بیٹھنا ، اُن کے پھل وغیرہ کھانا ، اُن سے راحت اور پاکیزگی حاصل کرنا جائز ہے بلکہ بسا اَوقات تو ایسا کرنا باعث اَجروثواب بھی ہوتا ہے جبکہ اِن اَفعال سے تازگی اور عبادت میں چُستی وقُوت حاصل کرنا مقصود ہو۔ ‘‘([4])
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے چند مسائل ثابت ہوئے : *علماء کا باغات میں جانا جائز ہے۔ * حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اپنے اَصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے باغات وغیرہ میں تشریف لے جاتے اور وہاں سے پانی وغیرہ بھی نوش فرمایا کرتے تھے۔ * باغات کی کمائی مُباح ہے جبکہ حَلال ہواور اُس میں کوئی ذِلَّت وغیرہ بھی نہ ہو۔ ‘‘([5])
رشتے داروں پرخرچ کرنا زیادہ اَفضل ہے:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث میں اِس بات کا بیان ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ کرنامستحب ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ صدقات کی کیفیت اور نیکیوں کی صورتوں وغیرہ کے بارے میں اَہل علم و فضل سےمُشاورت کرنا مستحب ہے اور اِس حدیث میں دیگر بیان کردہ فوائد کے علاوہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا اَفضل ہے جبکہ وہ اَقرباء محتاج ہوں نیز رشتہ دار صلہ رحمی کے زیادہ حق دار ہیں ، اگرچہ دُور ہی کے کیوں نہ ہوں کہ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیدنا ابُو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو اُنہوں نے دُور کے رشتہ داروں پر خرچ کیا۔ ‘‘([6])
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک میں اِس بات پر دلیل ہے کہ اپنے رشتہ داروں اور کمزور گھروالوں پر صدقہ کرنا اَفضل ہےجبکہ وہ نفلی صدقہ ہو۔ ‘‘([7])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدقہ کرنے والے اور سخی کی مثال:
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’کنجوس اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جنہوں نے اپنے جسم پر سینوں سے لے کر گردنوں تک زِرہیں پہنی ہوں۔ صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرتا ہے تو اُس کی زِرہ کھل جاتی ہےیااُس کے جسم پر ڈھیلی اور کشادہ ہوجاتی ہےحتّٰی کہ اُس کی انگلیاں اور پیروں کے نشان چُھپ جاتے ہیں جبکہ کنجوس جب بھی خرچ کرنے کا اِرادہ کرتا ہے تو اُس کی زِرہ کی ہر کڑی اپنی جگہ جَم جاتی ہے وہ اُسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن ڈھیلی نہیں ہوتی۔ ‘‘([8])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناپنی پسندیدہ چیزیں راہ خدا میں خرچ کیا کرتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایسے سخی تھے کہ راہ خدا میں اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں بھی خرچ کردیا کرتے تھے۔ چنانچہ دعوت اسلامی کےاشاعتی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۴ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروقِ
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الزکوۃ ، باب الزکوۃ علی الاقارب ، ۶ / ۴۶۷ ، تحت الحدیث : ۱۴۶۱۔
[2] دلیل الفالحین ، باب الانفاق ممایحب و من الجید ، ۲ / ۱۲۶ ، تحت الحدیث : ۲۹۷۔
[3] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فضل الزکوۃ علی الاقارب ، ۳ / ۴۸۱۔
[4] دلیل الفالحین ، باب النفقۃ ، باب طلب الانفاق مما یحب ، ۲ / ۱۲۵ ، حدیث : ۲۹۷۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب الزکوۃ ، باب الزکوۃ علی الاقارب ، ۶ / ۴۶۸ ، تحت الحدیث : ۱۴۶۱۔
[6] شرح مسلم ، کتاب الزکوۃ ، باب فضل النفقۃ علی الاقربین۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۸۵ ، ۸۶ ، الجزء ۷ ملخصاً۔
[7] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فضل الزکوۃ علی الاقارب ، ۳ / ۴۸۱۔
[8] بخاری ، کتاب الزکوۃ ، باب مثل المتصدق و البخیل ، ۱ / ۴۸۶ ، الحدیث : ۱۴۴۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع