30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے پاک کلام میں اِرشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۪-وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ (پ۳ ، البقرۃ : ۲۶۷)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا اور خاص ناقص کا اِرادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے۔
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’اِس سے کسب کی اِباحت اور اَموالِ تجارت میں زکوٰۃ ثابت ہوتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیتِ صدقہ نافلہ و فرضیہ دونوں کو عام ہو ، خواہ وہ غلے ہوں یا پھل یا مَعادِن وغیرہ۔ شانِ نزول : بعض لوگ خراب مال صدقہ میں دیتے تھے ، اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ مسئلہ : مُصدِّق یعنی صدقہ وصول کرنے والے کو چاہیے کہ وہ متوسط مال لے ، نہ بالکل خراب نہ سب سے اعلیٰ۔ ‘‘([1])
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ تفسیر ’’صراطُ الجنان‘‘ میں مذکورہ آیت کے تحت ہے : ’’بعض لوگ صدقہ میں خراب مال دیا کرتے تھے ، اُن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایاگیا کہ اللہتعالیٰ کی راہ میں اپنا کمایا ہواپاکیزہ اور صاف ستھرامال دیا کرو ، نیز زمین کی پیداوار سے بھی راہِ خدا میں خرچ کیا کرواور اللہتعالیٰ کی راہ میں ناقص ، گھٹیامال تم دیتے ہو ، اگر وہی مال تمہیں دیا جائے تو کیا تم قبول کروگے؟پہلے تو قبول ہی نہ کروگے اور اگر قبول کربھی لو تو کبھی خوش دلی سے نہ لوگے ، بلکہ دل میں بُرامناتے ہوئے لوگے۔ تو جب اپنے لیے اچھا لینے کا سوچتے ہو تو راہِ خدامیں خرچ کئے جانے والے کے بارے میں بھی اچھا ہی سوچو۔ بہت سے لوگ خود تو اچھا استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن جب راہِ خدامیں دینا ہوتا ہے تو ناقابل استعمال اور گھٹیا قسم کا دیتے ہیں ۔ اُن کے لیے اِس آیت میں عبرت ہے ، اگر کوئی چیز فی نفسٖہ تو اچھی ہے لیکن آدمی کو خود پسند نہیں تو اُس کے دینے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ حرج وہاں ہے جہاں چیز اچھی نہ ہونے کی وجہ سے ناپسند ہو۔ ‘‘([2])
حديث نمبر : 297 پسندیدہ مال راہِ خدامیں خرچ کرو
عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ يَقُولُ: كَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ اَكْثَرَ الْاَنْصَارِ بِالْمَدِيْنَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِهِ اِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا اُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ( قَامَ اَبُوْ طَلْحَةَ اِلٰى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ:) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ( وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِى اِلَىَّ بَيْرُحَاءَ وَاِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ اَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ اَرَاكَ اللَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخْ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَاِنِّى اَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِى الْاَقْرَبِينَ فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ: اَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا اَبُوْ طَلْحَةَ فِى اَقَارِبِهِ وَبَنِٰى عَمِّهِ .([3])
حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاتعلق انصارِ مدینہ میں اُن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے تھا جن کے پاس سب سے زیادہ کھجور وں کے درخت تھے ، اُن کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء (کاباغ) تھا جو کہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا۔ حضورنبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں تشریف لے جاتے اور اُس کا میٹھا پانی نوش فرماتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : ) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ ((پ۴ ، آل عمران : ۹۲) ترجمۂ کنزالایمان : ’’تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ ‘‘ توحضرتِ سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہوئے اورعرض کی : اللہ عَزَّوَجَلَّتو فرماتاہے : ) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ( میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال’’بیرحاء‘‘ ہے ، میں اِسے راہِ خدا میں نیکی اور آخرت کے لیے ذخیرہ کی اُمید پر صدقہ کرتاہوں۔ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اِسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالیٰ آپ کی رائے قائم فرمائے۔ ‘‘ حضورنبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ خوب یہ تو بہت نفع بخش مال ہے ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے۔ میں نے تمہاری بات سُن لی ہےلیکن میری رائے یہی ہے کہ تم اُسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ ‘‘حضرتِ سَیِّدُنا ابُو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں ایسا ہی کروں گا۔ ‘‘ پھر حضرتِ سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔
سب سے پسندیدہ مال خرچ کرنا اَفضل ہے:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں بندے کے لیے جو جنت میں ثواب ہے وہ اُسے اُس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک کہ وہ اپنی پسندیدہ چیز صدقہ نہ کردے۔ یعنی پسندیدہ مال میں سے کچھ مال صدقہ کرے۔ ‘‘علامہ ضحاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’اِس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع