دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

فرمایا گیا : “ جو سوال سےبچنا چاہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُسے بچالیتا ہے۔ “ یعنی جو  کسی سے کوئی چیز مانگنے  سے بچتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُسے مال دے کر اُس کی حاجات  پوری فرما دیتا ہے اور اُسے دوسروں سے بے نیاز کر دیتا ہے یا اُس کے دل کو قناعت سے بھر دیتا ہے۔ ‘‘

بے نیازی چاہنے والے کو بے نیازی دینا:

فرمایا گیا : “ اور جو بے نیازی  چاہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُسے  بے نیاز  کر دیتاہے۔ “ یعنی جو  لوگوں سے  بے نیاز رہنا چاہے تو   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے  اتنا  مال اور  قناعت عطا فرماتا ہے  کہ وہ مزید کا طلبگار نہیں رہتا ۔ جو اُس کے پاس ہے وہی کافی ہوجاتا ہے۔ پس دو  کاکھانا تین کو  کافی ہو جاتا ہے۔ اِنسان کی  نفسانی خواہشات  تو  اُس کی مرضی  پرمُنْحَصِر ہیں  ، اگر وہ  اپنے  نفس کو آزاد چھوڑ دے تو  آزاد ہوجاتاہےاور اُس کی خواہشات بڑھتی رہتی ہیں اور   اگر اُس کی عادت چھڑا لی جائے تو  باز آجاتا ہے ، اور قناعت کا عادی ہوجاتا ہے۔ ‘‘([1])

حدیث پاک سے ماخوذ چند اہم اُمور:

فیوض الباری شرح  بخاری میں   شیخ  الحدیث  حضرت علامہ مولانا  سید محمود احمد رضوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی ذکر کردہ شرح کا خلاصہ   پیش خدمت ہے :

(1) صدقہ کا بہترین  طریقہ  یہ ہے کہ آدمی  اس طرح خرچ کرے  کہ وہ خود  اور اس  کے  اہل وعیال محتاج نہ ہوجائیں ، خرچ کی  ابتدا اپنے اہل وعیال  سے کرنے کا مطلب یہ ہے   کہ جن  لوگوں  کا نان  ونفقہ واجب ہے ،  بیوی بچے وغیرہ  پہلے اُن کے  اخراجات  پورے کیے جائیں۔ عام طور پر  لوگ  یار دوستوں  پر تو خوب خرچ کرتے ہیں  اور بیوی  بچوں  کی پرواہ نہیں کرتے یہ بہت ہی غلط طریقہ ہے۔

(2)اِس حدیث پاک میں اِس طر ف اشارہ ہے کہ  سوال کرنا یعنی مانگنا کوئی فضیلت کی  بات نہیں ۔ ویسے  بھی جو شخص  کما کر کھا سکتا ہے  اُس کو  سوال کرناجائز  نہیں ۔ جو صبرو  ضبط  سے کام لے گا  اورسوال  کرنے  کے بجائے  خود کمانے کی کوشش   کرے گا  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کی کوشش وسعی  میں برکت  عطا فرمائے گا  اور غیر  کے سامنے  ہاتھ پھیلانے کی  نوبت نہ آ نے دے گا۔

(3) آدمی  کو پہلے  اپنے  اہل وعیال  کے اخراجات  وضروریات  کو پورا کرنا چاہیے ،  اس کے بعد  دوسروں  کو دینا چاہیے کیونکہ بیوی  بچوں کا نفقہ  واجب ہے  اور دوسروں کو صدقہ و خیرات دینا  نفل ہے۔ ایک حدیث پاک میں  فرمایا گیا : “ مجھے اُس ذات کی قسم جس نے مجھے  حق کے ساتھ  بھیجا ! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   اُس شخص  کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتے دار  محتاج ہوں اور وہ غیروں  کو دے۔ ‘‘ایک اور حدیث میں فرمایا گیا : ’’ قسم  ہے اُس کی  جس کے دستِ قدرت میں  میری جان ہے ! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قیامت  کے دن  اُس کی طرف  نظر نہ فرمائے گا ۔ ‘‘اِن حدیثوں سے واضح ہوا کہ  زکوٰۃ  و خیرات  وغیرہ  میں اَفضل یہ ہے کہ  اَوَّلاً اپنے عزیز و اَقرباء کو دی جائے۔  صدقات نافلہ  کی رقم  وغیرہ  تو  اپنے ہر عزیز اور رشتہ دار کو دے سکتے ہیں  ۔ ماں باپ  بھائی  بہن  اُصُول و فُرُوع  سب کو دے  سکتے ہیں۔ البتہ  زکوۃ ، فطرانہ ا  ور صدقات ِواجبہ  اپنے اُصول یعنی  جن کی یہ خود اَولاد ہے جیسے  ماں باپ ،  داد ، دادی ،  نانا ، نانی  وغیرہ اور فُروع   یعنی  جو اُس کی اولاد میں شامل ہیں  جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی ، نواسہ نواسی  وغیرہ اِن   کو نہیں  دے سکتے ۔ ہاں نفل  صدقات  دے سکتے ہیں  بلکہ انہیں دینا  ہی  بہتر  وافضل ہے  نیز  زکوٰۃ ، فطرہ ا ور صدقاتِ  واجبہ  کی رُقُوم  بھائی بہن  اِن کی اولاد ، چچا ، پھوپھی اِن کی اولاد ، ماموں خالہ اور اِن کی اَولاد وغیرہ  اگر محتاج ہوں ، صاحبِ نصاب نہ ہوں  تو اِن سب   کودے سکتے ہیں بلکہ  اِنہیں  دینا اَفضل و بہتر ہے  ۔ ‘‘([2])

مدنی گلدستہ

’’نفلی صدقات ‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول

   (1)دینے والا  ہاتھ لینے والے ہاتھ سے کہیں بہتر ہے ، لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ بلا ضرورت کسی سے قرض وغیرہ بھی نہ لیا جائےنیزبلا ضرورت اپنی ذات کے لیے مانگنے والا اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔

   (2)بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی بندے کی مالداری باقی رہے ، نفلی صدقات ، ضروریات وواجبات  کی ادائیگی کے  بعد زائد مال  سے دیے جائیں ۔

   (3)سب سے پہلے  اچھے سلوک اور خرچ کرنے کے حقدار قریبی رشتہ دار ہیں ،  پہلے اُن کے ساتھ حسن سلوک کیا جائےاور  اُن پر صدقہ وغیرہ خرچ کیا جائے  پھر دیگر لوگوں پر۔

   (4)جو  کسی  سے کچھ نہ مانگنے کی سچی پکی نیت  کرلے اور کوشش بھی کرے  تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی اُسے دوسروں کی محتاجی سے محفوظ رکھتاہےنیز غیب  سے اُس کی مدد فرماتا ہے ۔

   (5)صدقاتِ نافلہ کی رقم وغیرہ اپنے تمام رشتہ داروں کو دے سکتے ہیں۔

   (6)صدقاتِ واجبہ ، زکٰوۃ اور فطرانہ وغیرہ اپنے اُصُول جیسے ماں باپ ، دادا دادی ، نانا نانی وغیرہ اور فُرُوع جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی ، نواسہ نواسی وغیرہ کو نہیں دے سکتے۔

 



[1]   دلیل الفالحین ،  باب فی النفقۃ علی العیال ، ۲ / ۱۲۲ ،  تحت الحدیث : ۲۹۷۔

[2]   فیوض الباری ، ۶ / ۳۹ ملخصاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن