دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

   (3)کنجوسی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، بلکہ کنجوس کا مال   خود اُس کے اپنے کام بھی نہیں آتا ، دوسرے لوگ لے جاتے ہیں وہ خود اُس  سے فائدہ نہیں اُٹھاپاتا ۔

   (4)بہترین خرچ وہ ہے جو نیک کاموں ، اَہل وعیال ، مہمانوں اور دیگر  ثواب والے کاموں میں ہو۔

   (5)وہ قلیل مال جو اِنسان کو کافی ہو  اُس کثیر مال سے بہتر ہے جو اِنسان کی غفلت کا سبب بنے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کنجوسی جیسی نحوست سے پاک فرمائے اور سخاوت جیسی نعمت سے مالامال فرمائے ، نیز ہمیں اپنی راہ میں دِل کھول کر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔                                                       آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 296                                                                 اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے

عَنْهُ  عَنِِ النَّبِيِّ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  قَالَ : اَ لْيَدُ الْعُلْيَاخَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلٰی  وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ  غِنىً  وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ  وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ. ([1])

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ خرچ کی  ابتدا اپنے اہل وعیال  سے کرو ، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی مالداری رہے ، جو سوال سے بچنا  چاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بچالیتاہےاورجو بے نیازی   چاہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے بے نیاز  کردیتاہے۔ ‘‘

پانچ اَہم اُمور کا بیان:

 حدیثِ پاک میں   پانچ اہم باتیں بیان ہوئیں ہیں : (1) اوپر والا ہاتھ  نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے  والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (2) جب بندہ مال خرچ کرنا چاہے تو پہلے اپنے اہل  وعیال پر خرچ کرے۔ (3) بہترین  صدقہ وہ جو ضرورت سے زائد مال میں سے دیا جائےاور اُس کے بعد بھی مالداری  باقی رہے۔ (4) جو مانگنے  سے بچنا چاہتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کی مد دفرماتا ہے اور اُسے  مانگنےسے محفوظ رکھتا ہے۔ (5) جو بے نیازی   چاہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُسے  بے نیاز کر دیتا ہے ۔ ‘‘

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مذکورہ پانچوں اُمور کی تفصیلی شرح دلیل الفالحین میں نقل فرمائی ہے ، جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے :

اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا معنی:

اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ سے کیا مراد ہے؟اِس میں محدثینِ کِرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اِختلاف ہے کیونکہ اِس بارے میں  مختلف اَحادیث مَروی ہیں۔ شارِحِ حدیث علامہ اِبنِ حجر عسقلانی  قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’اوپر والے ہاتھ سے خرچ کرنے والا  ہاتھ اور نیچے والے  ہاتھ سے  مانگنے والا ہاتھ مُراد ہے۔ یہی معنیٰ قابِلِ اِعتمادہیں اور یہی جمہور کامذہب ہے۔ اِس طرح کی جتنی اَحا دیثِ  مبارکہ وارد ہوئی ہیں اِن سب کا حاصل یہ ہے کہ  تمام ہاتھوں میں  اعلیٰ ترین ہاتھ وہ ہے  جو  خرچ کرنے والا ہو ، پھر وہ  جو مانگنے کے لئے نہ اُٹھے اور پھر بغیر مانگے لینے والا۔ اور سب سے بُرا وہ ہاتھ ہے جو (بِلاضرورت ) مانگنے کے لئے  اُٹھے  اور( حق دار کو) دینے سے  رُکے۔ ‘‘

صدقے کے بعد مالداری کا معنٰی:

فرمایا گیا : “ بہترین صدقہ وہ ہے  جس کے بعد بھی  مالداری  باقی رہے۔ “ یعنی  جب اِنسان صدقہ وخیرات کرے تو  اپنے پاس  اتنا مال ضرور باقی رکھے جو  اُسے اور اُس کے اَہل وعیال کو کافی ہو ۔ حضرتِ سَیِّدُناامام بغوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مُراد یہ ہے کہ  صدقہ دینے کے بعد بھی اتنا مال باقی رہے  جس سے مَصائب میں کام چلایا جا سکے۔ ‘‘بعض نے  کہا : ’’اِس کامعنی یہ ہےکہ  جسے صدقہ دو اتنا دو کہ  وہ مانگنے سے مستغنی ہو جائے۔  ‘‘ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’اَفضل صدقہ وہ ہے جس  کا سبب دینے والے  کی مالداری ہو۔ ‘‘ علامہ قُرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ایسی چیز کا حاصل ہونا جس سے  حاجت  پوری  ہو جائے  غنا کہلاتا ہے ۔ مثلاً سخت  بھوک  کے وقت کھانا میسر ہونا ور بے لباسی کی حالت میں لباس مل جانا۔    ‘‘

تمام مال صدقہ کرنے کا حکم:

شارِحِ حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’تمام مال صدقہ کرنا اُس کے لئے مستحب ہے  جس پر کسی قسم کا کوئی قرض نہ ہو ، نہ اَہل وعیال ہوں ، اگر ہوں تو ایسے نہ ہوں جو  بھوک  پیاس پر صبر نہ کر سکیں اور وہ خود بھی   صابر ہو۔ جس میں یہ سب شرطیں  نہ پائی جائیں تو  اُسے سارا مال  صدقہ کرنا مکروہ ہے۔  اِسی طرح وہ تمام اَشیاء جن کی اِنسان  کو  ضرورت ہواور اُن کے بغیر ہلاکت یا ضرر  نقصان ہو  تو ایسی اشیاء کا اِیثار کرنا  جائز نہیں البتہ جب  حقوقِ واجبہ پورے ہو جائیں تو صدقہ کرنا جائز ہے  ۔ ‘‘

سوال سے بچنے والے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا بچانا:

 



[1]   بخاری  ، کتاب الزکوۃ ،  باب لا صدقۃ الا عن ظھر غنی  ، ۱ / ۴۸۲ ،  حدیث : ۱۴۲۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن