30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناکھلاؤ۔ بے شک میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کا کھاناروک دے ۔ ‘‘([1])
کھانا روک لینا سخت ظلم اور قتل ہے:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’انسان کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ جن کا وہ مالک ہے ان کی خوراک روک لے۔ اس طرح کہ انہیں کھانا نہ دے حتی کہ وہ ہلاک ہوجائیں یہ تو سخت ظلم ہے بلکہ قتل ہے۔ یا اِس طرح کہ انہیں بہت کم روزی دے جس سے وہ دُبلے کمزور ہوجائیں ، دو چار فاقے کرا کر ایک وقت دے دے یا پیٹ بھر کر نہ دے یہ بھی ظلم ہے۔ اِس حکم میں لونڈی ، غلام ، پالے ہوئے جانور سب شامل ہیں۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت اِسی لئے دوزخ میں گئی کہ اُس نے پالی ہوئی بلی کو بھوکا باندھے رکھا حتی کہ وہ مَر گئی ۔ آج کل بعض قصائی جانوروں کو کئی کئی وقت بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرتے ہیں ، یہ سخت ظلم ہے۔ شرعی حکم تو یہ ہے کہ شکم سیر جانور کو بھی ذبح سے پہلے کھانا پانی دکھالو ، کھلالو۔ علماء فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ گناہ ہے کیونکہ انسان تو کسی سے اپنا دکھ درد کہہ سکتا ہے ، بے زبان جانور کس سے کہے؟ اس کا اللہکے سوا فریاد سننے والا کون ہے؟ بھوکے پیاسے اونٹوں نے حضورِ اَنور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے اپنے مالکوں کی شکایت کیں اور سرکار نے اُن کے اعلیٰ انتظامات فرمائے۔ شعر
خلق کے داد رَس سب کے فریاد رَس
کہفِ روزِ مصیبت پہ لاکھوں سلام
اِن اَحادیث سے پتا چلتا ہے کہ حضو رحمۃ للعالمین ہیں۔ آج ہم سگے بھائیوں سے وہ سلوک نہیں کرتے جو سلوک( اس زمانۂ اقدس میں) غلاموں سے کیا جاتا تھا۔ ‘‘([2])
’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اپنے زیرِ کفالت لوگوں کے حقوق ضائع کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)قریبی حق دار رشتہ داروں کو چھوڑ کر دوسروں پر خرچ کرنے والا سزا کا مستحق ہے۔
(3)اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی پناہ میں آنے والا ہر شخص اپنی جان و مال ، اہل و عیال بلکہ اپنی سب اَشیاء کو محفوظ کر لیتاہے ۔
(4)اِسلام میں اِنسان تو اِنسان جانوروں کے حقوق کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ساری مخلوق کے فریاد رَس ہیں کہ جو آپ کی بارگاہِ بے کَس پناہ میں فریاد کرتا ہے وہ اپنی مُراد پا لیتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے زِیر کفالت لوگوں کے حقوق کی اچھی طرح ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے نیز ہمیں حقوق العباد کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ کی ادائیگی کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 295 ہر صُبح دو فرشتوں کی دعا
عَنْ اَبِي هُرَ يْرَ ةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ اِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُوْلُ اَحَدُهُمَا:اللّٰهُمَّ اَعْطِ مُنْفِقاً خَلَفاً وَيَقُوْلُ الْاٰخَرُ : اللّٰهُمَّ اَعْطِ مُمْسِكاً تَلَفاً. ([3])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ہر صبح جب لوگ اٹھتے ہیں تو دو فرشتے اترتے ہیں۔ اُن میں سے ایک رب تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعا کرتاہے : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!خرچ کرنے والے کوبدلہ عطا فرما۔ ‘‘ دوسرا یوں دعا کرتا ہے : ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!روکنے والے کا مال ضائع فرما۔ ‘‘
“ دلیلُ الفالحین “ میں ہے کہ “ علّامہ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : حضرت سَیِّدُنَا ابودَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے : جب سُورج طلوع ہوتا تو اُس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع