30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیدا ہونے کا سبب ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ : ’’اگر تمہارا امیر کمزور نسب حبشی غلام ہو حتی کہ اس کے ناک کان بھی کٹے ہو ئے ہوں ، تب بھی تم پر اس کی اطاعت کرناواجب ہے۔ ‘‘([1])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اس بات پر بیعت کی کہ اقتدارجن لوگوں کے سپردکیا جائے گاان سے جنگ نہیں کریں گے ، ان کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے ، ان کے خلاف دنیا کے اموراور سلطنت کے احکام میں نہ کچھ کہیں گےاور نہ کریں گےلیکن جہاں تک احکامِ دِین اور شریعت کے حق کا تعلق ہے تو اس معاملے میں ہم خاموشی اختیارنہیں کریں گےاور نہ ہی چاپلوسی سے کا م لیں گے۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا کہ اقتدار کے سلسلہ میں نہیں جھگڑوگےجب تک تم ایسا کھلاہواکفر نہ دیکھ لوجس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے روشن دلیل ہویعنی قرانِ پاک کی آیت اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت جس میں تاویل نہ کی جاسکے۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے کہ حاکم فسق اور ظلم کی بناپر معزول نہیں ہوتا ، اگر بغیر فتنہ وفسادکے اسے معزول کرنا ممکن نہ ہوتو اسے معزول نہیں کرنا چاہیےاور اگر فساد کے بغیر ممکن ہوتواسے معزول کرنا اولیٰ اور زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘([2])
کفر کی صورت میں اہل اقتدار کی اطاعت نہ کرنا:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہاں کفر سے مراد معاصی (یعنی گناہ) ہیں۔ حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ جو حکام تمہارے امور کے والی ہیں ان کی ولایت میں ان سے جھگڑا نہ کرو اور نہ ہی ان پر کوئی اعتراض کرو ، ہاں اگر تم ان سے ایسا کھلا کفر دیکھوجس کے بارے میں تمہیں یقینی ہو کہ یہ قواعد اسلام کے خلاف ہے تو تم اس کا انکارکرواور جہاں کہیں بھی ہو حق بات کہو۔ ‘‘([3])
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یعنی کسی دنیاوی معاملہ میں اگرتمہاری رائےیہ ہوکہ اس میں تمہارا حق ہے تو تم اس رائے پرعمل نہیں کروگے بلکہ حاکم کی بات سنو گےاور اس سے بغاوت کیے بغیر اس کی اطاعت کرو گے۔ البتہ اگر تم ان سے ایسی بری بات دیکھوجوقواعد اسلامیہ کے خلاف ہوتو ایسی صورت میں تمہارے لیے ان سے نزاع یعنی جھگڑا کرناجائز ہےاور تم پر ان کی اطاعت لازم نہیں۔ ‘‘([4])
کافر اور فاسق کی خلافت کا حکم:
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر کی امامت منعقد نہیں ہوتی اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر حاکم کافر ہوجائے (نَعُوْذُ بِاللّٰہ) تو وہ خلافت سے معزول کردیا جائے گا۔ اسی طرح اگر اس نے نماز قائم کرنا ترک کردی یا کسی بدعت کو اختیار کر لیا تو بھی وہ معزول ہو جائے گا۔ نیز اگر خلیفہ کافر ہو جائے یا شریعت کو تبدیل کرے یا کسی بدعت کا ارتکاب کرے تو اس کی ولایت اور اطاعت ساقط ہو جائے گی اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں اور اسے منصب سے ہٹاکرکسی دوسرے عادل شخص کوامام یاولی مقررکریں اور اگر ان سےیہ ممکن نہ ہوتوجس جماعت سےیہ ممکن ہووہ اسے منصب سے ہٹانے کی جدوجہدکرے۔ بہرحال کافرکو معزول کرنا مطلقاًواجب ہےاور بدعتی کوہٹانااس وقت واجب ہے کہ جب اس پر غلبے کا یقین ہواور اگر بدعتی پر قدرت نہ ہواور اس پر غلبہ حاصل کرنے کاعجز متحقق ہوجائے تواس کے خلاف خروج کرناواجب نہیں اور ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیےکہ اس جگہ سے دوسری جگہ کی طرف ہجرت کرلیں اور اپنے دِین کو بچائیں ۔ نیز فاسق کو ابتداًخلیفہ بنانا جائزنہیں اور اگر خلیفہ بعد میں فاسق ہوجائے تو جمہوراہلسنت ، فقہااورمحدثین نے یہ کہا ہے کہ ظلم ، فسق اورلوگوں کے حقوق ضبط کرنے سے خلیفہ معزول نہیں ہوتااور اس کی بیعت توڑنا جائز نہیں اور نہ اس کے خلاف خروج اور جنگ کرناجائز ہے۔ البتہ اسے وعظ ونصیحت کرنااوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرانا چاہیے اورخلافِ شرع اُمورمیں اس کی اطاعت ترک کرنی چاہیے۔ ‘‘([5])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس بات پر بھی بیعت کی کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں حق بات کہیں گے یعنی کسی بھی جگہ پر ہوں اور کسی بھی زمانے میں ہوں بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور دین کے معاملے میں نہ کسی کی خوشامد کریں گے ، نہ کسی سے ڈریں گے اور نہ ہی کسی کے
[1] شرح مسلم للنووی ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب طاعۃ الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۲۲۵ ، الجزء الثانی عشر ۔
[2] اشعۃ اللمعات ، کتاب الامارۃ والقضاء ، الفصل الاول ، ۳ / ۳۱۱ملخصاً۔
[3] شرح مسلم للنووی ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب طاعۃ الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۲۲۹ ، الجزء الثانی عشر۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب الفتن ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم سترون ۔ ۔ الخ ، ۱۶ / ۳۳۱ ، تحت الحدیث : ۷۰۵۶۔
[5] اکمال المعلم ، کتاب الامارۃ ، باب وجوب طاعۃ الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۲۴۶ ، تحت الحدیث : ۱۷۰۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع