30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بہترین کردار ادا کریں۔ اِصلاحِ اُمَّت کا جذبہ اُن کے سینوں میں مُوجِزن ہو اور یوں وہ تِشنگانِ علم و عمل کی سیرابی کا ذریعہ بنیں ۔ بچوں سے پیارو محبت و شفقت سے پیش آنے والوں ، انہیں خوش رکھنے والوں کے لئے تو جنتی گھر کی بشارت ہے چنانچہ حضور نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : ’’بے شک! جنت میں ایک گھر ہے جسےاَلْفَرح کہا جاتا ہے۔ اِس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ ‘‘([1])
سیدنا امیر’’حمزہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے ۔
(2)اپنے بچوں کے لئے رِزقِ حلال کمانا اور اُن پر خرچ کرنا اَبدالوں والا عمل شمار کیا گیاہے۔
(3)جس شخص میں عیال کی کثرت ، آمدنی کی قلت ، نماز کی اچھے طریقے سے ادائیگی اور مسلمانوں کی غیبت سے اِجتناب ، یہ چار باتیں جمع ہو جائیں اِس کے لئے جنت میں رَفاقتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم بشارت ہے ۔
(4)جو رِضائے اِلٰہی کے لئے اپنا مال خرچ کرنا چاہے تو اُسے چاہیے کہ پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے پھر دیگر لوگوں پر۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رِزقِ حلال کمانے اور اپنے گھروالوں پر اچھی نیت سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جنت میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 294 مُتَعَلِّقِیْن کےحُقُوق ضائع کرنے کا وَبال
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالْمَرْءِ اِثْمًا اَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوْتُ. ([2])وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيْحِهِ بِمَعْنَاهُ قَالَ : كَفَى بِالمَرْءِ اِثْمًااَنْ يحْبِسَ عَمَّنْ يَّمْلِكُ قُوتَهُ. ([3])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سُلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : ’’آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے یہی بات کافی ہےکہ وہ اُن کے حقوق ضائع کر دے جن کے رِزق کا یہ کفیل ہے۔ ‘‘ اور امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی صحیح میں اِس کے ہم معنی یہ روایت بیان کی کہ ’’آدمی کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے غلاموں کی خوراک روک دے ۔ ‘‘
اِسلام نے ہر ایک کے حقوق بیان فرمائے:
حدیث مذکور میں اپنے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت برتے والوں کے لئے وعید ہے کہ لوگوں کا حق پامال کر کے وہ بہت بڑے گناہ کے مُرتکب ہوتے ہیں جبکہ دِین اِسلام ہر مسلمان کو حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے ۔ دامنِ اِسلام میں آنے والے ہر شخص کی جان و مال اوراَولاد و عزت بلکہ اُس کی ہر شے محفوظ ہو جاتی ہے ۔ اِسلام نے اپنے ماننے والے ہر شخص پر اُس کے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی لازم فرمائی ہے ، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا ، شوہر ہو یا بیوی ، غلام ہو یا آقا ، مالک ہو یا خادِم ، امیر ہو یا غریب ، سب پر حسب حال ایک دوسرے کے حقوق لازم فرمائے بلکہ یہ تو وہ پیارا مذہب ہے کہ جس نے جانوروں کے حقوق کی حفاظت کا بھی حکم دیا اور اُن بے زبانوں پر ظلم کرنے والوں کو سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ غلام جن کے حقوق کی پامالی اوراُن پر ظلم وستم کو لوگ اپنا حق سمجھتے تھے اِسلام نے اُن مظلوموں پر شفقت ومہربانی کا حکم دیا اُن کے ساتھ حسن سلوک پر دنیا اورآخرت میں اِنعامات کی بشارت دی ۔
“ دلیل الفا لحین “ میں اِس حدیث کی جو شرح کی گئی ہے اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : “ اپنے زیر ِکفالت لوگوں کے حقوق کا ضیاع ایسا بھیانک جرم ہے کہ اگر کوئی اور گناہ نہ بھی ہوں تب بھی یہی ایک گناہ ہلاکت کے لئے کافی ہے ۔ حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں اور دیگر زیرِ کفالت قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دوسروں پر خرچ کرے تو گناہ گار ہوگا ۔ ‘‘مسلم شریف میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے خزانچی سے پوچھا : ’’غلاموں کو کھانا دیا ہے یا نہیں؟‘‘ اُس نے نفی میں جواب دیا توفرمایا : جاؤ اور انہیں کھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع