30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سَیِّدُنا علامہ ابنِ بطال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارحدیث کی وضاحت کرتے ہوئےفرماتے ہیں : ’’اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنااُمّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس اُن کے پہلے شوہرحضرت سیدنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کچھ اولادتھی جن کے پاس مال وغیرہ نہ تھا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگر میں آپ کے دئیے ہوئے مال میں سے اِن بچوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے اجر ملے گا ؟ میں اِنہیں اِدھر اُدھر نہیں چھوڑ سکتی۔ ارشاد فرمایا : ہاں! تو جو اِن پر خرچ کرے گی توتجھے اِس کا ثواب ملے گا۔ اِس سے ثابت ہوا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپر بچوں کا نفقہ واجب نہ تھا ، اگر واجب ہوتا تو یہ نہ فرماتیں کہ میں انہیں اِس حال میں نہیں چھوڑ سکتی کہ وہ اِدھر اُدھر پھریں اورسرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اُن سےضرور فرماتے کہ تم چاہو یا نہ چاہو بہر حال تم پر اُن کا نفقہ واجب ہے ۔ ‘‘([1])
بچوں پر خرچ کرنے پر ثواب کی وُجوہات:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اُمّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پہلے خاوند کا نام عبدﷲ ابن عبدالاسد تھا ، کنیت ابو سلمہ۔ اِن کی وفات کے بعد حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت سے مشرف ہوئیں۔ ابو سلمہ کی کچھ اولاد دوسری بیوی سے تھی جو اُمِّ سلمہ کی سوتیلی اولاد تھی۔ عمر ، زینب اور کچھ اولاد خودام سلمہ کے بطن سے تھی یعنی سلمہ کی حقیقی اولادمحمد ، دُرّہ۔ یہاں سوال سوتیلی اولاد کے متعلق ہے ، ورنہ آپ بنی ابی سلمہ نہ فرماتیں۔ (فرمایا : ان بچوں پر خرچ کرنے کا تجھے ثواب ملے گا)کیونکہ وہ یتیم بھی ہیں اور تمہارے عزیز ترین بھی۔ اِن پر خرچ کرنا یتیم کو پالنا بھی ہے اور عزیز کا حق ادا کرنا بھی ، اپنے فوت شدہ خاوند کی رُوح کو خوش کرنا بھی۔ ‘‘([2])
تمام بچوں پر شفقت باعث ثواب ہے:
بچے چاہے اپنے ہوں یا غیر ، اِن کی اچھی پرورش ، اِن کے ساتھ شفقت و محبت اور اِن پر اِیثار کرنے کا بہر صورت اجر ملتا ہے ، رضائے اِلٰہی نصیب ہوتی ہےاور جنت میں بِلا حساب داخلے کی بشارت ہے۔ چنانچہ ،
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ آئی ، میں نے اُسے تین کھجوریں دیں تو تینوں نے ایک ایک لے لی۔ پھر اُس عورت نے اپنی کھجوربھی دوٹکڑے کر کے اپنی بیٹیوں کوکھلا دی ، مجھے اِس سے بہت تعجب ہوا ۔ میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یہ واقعہ عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِس( ایثار) کی وجہ سے اِس عورت کے لئے جنت واجب کردی ہے ۔ ‘‘([3])
ایک روایت میں ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جس نے کسی بچے کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ “ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ “ کہنا شروع کر دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس بندے سے حساب نہ لے گا ۔ ‘‘([4])
شارِحِ حدیث حضرتِ علّامہ عبد الرءوف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث اپنی اولاد اور غیر کی یتیم اولاد وغیرہ سب کو شامل ہے۔ ‘‘([5])
’’حمد‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)نیک لوگ اپنے متعلقین اور اُن کے بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں ، جہاں مدد کی ضرورت ہو حسبِ اِستطاعت اُن کی ضرور مدد کرتے ہیں ۔
(2)جس پر اپنے سوتیلے بچوں کا نفقہ واجب نہ ہو پھر بھی وہ اُن کی کفالت کرے ، اُن پر خرچ کرے تو اُسے اِس پر ثواب ملے گا۔
(3)جس طرح اپنے بچوں پر خرچ کرنا اجروثواب کا باعث ہے ویسے ہی یتیم بچوں کی کفالت کرنابہت اجر وثواب والا عمل ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بچوں اور دیگر بچوں پر بھی رحم دلی ، سخاوت و ہمدردی ، غریبوں ، یتیموں سے محبت اور اپنی رضا کے لیے اُن کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 292 اپنی زوجہ کو کھا نا کھلانا بھی صدقہ ہے
عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبي وَقَّاصِِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في حَدِ يْثِهِ الطَّوِيْلِ الَّذِي قَدَّمْنَاهُ فِي اَوَّلِ الْكِتَابِ فِي بَابِ النِّيَةِ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : وَ اِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع