30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیا جائے گا۔ چنانچہ پیارے آ قا ، مدینے والے مُصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : ’’جو کوئی سوال سے بچنے ، اَہل وعیال کی پرورش اور پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنے کے لئے رِزقِ حلال کمائے تو بروزِ قیامت اُس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ ‘‘([1])
رِزقِ حلال کمانے میں جب مشقت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اُس پر صبر کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : “ گناہوں میں کچھ گناہ ایسے ہیں جنہیں حُصُولِ رِزق میں پہنچنے والا رَنج و غم ہی مٹا سکتا ہے ۔ “ ([2])
اپنے اہل وعیال پر نرمی کرنے والوں ، انہیں خوش رکھنے والوں اور اُن پر رحم کرنے والوں کے لئے بخشش کی بشارت ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : “ بروزِ قیامت میرےایک ایسے اُمّتی کو لایا جائے گا جس کے پاس ایک نیکی بھی نہ ہوگی جس کی وجہ سے اُس کے لئے جنت کی اُمیدکی جاسکے لیکن اِس کے باوجود اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر رحم کرے گا اور فرمائے گا : اِسے جنت میں لے جاؤ کیونکہ یہ اپنے گھر والوں پر رحم کیاکرتا تھا۔ “ ([3])
ایک اور حدیث پاک میں ہے : “ جس نے اپنے گھر والوں کے دل میں خوشی داخل کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس خوشی سے ایک ایسی مخلوق پیدا فرمائے گا ، جو اُس کے لئے قیامت کے دِن تک اِستغفار کرتی رہے گی ۔ “ ([4])
’’نبی کریم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)اہل و عیال ، راہ ِخدا کےدوست اور راہِ خدا کے جانور ، مال خرچ کرنے کے بہترین مصارف ہیں ۔
(2)اہل وعیال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے بندےکے پاس امانت ہیں ، اُن کی حفاظت بندے پر لازم ہے۔
(3)حکیم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ، اُس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہو تی ہے ۔
(4) صدقہ خیرات کی ترغیب دلانا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔
(5)جو مال بھی رضائے الٰہی کے لئے خرچ کیا جائے اُس پر اجر دیا جاتا ہے۔
(6)کسب حلال میں مشقت پر بھی اِس طرح اجر دیا جاتا ہے کہ اِس کے سبب گناہ مٹادیئے جاتے ہیں۔
(7)گھروالوں پر رحم کرنےاور اُن کے دل میں خوشی داخل کرنے پر بھی اجر دیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لئے حلال روزی کمانے اور اُسے نیک وجائز اُمور میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 291 اَولاد پر خرچ کرنا باعثِ اجر ہے
عَنْ اُمِّ سَلمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُول الله هَلْ لِي اَجْرٌ فِي بَنِي اَبي سَلَمَة اَنْ اُنْفِقَ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هٰكَذَا وَهٰكَذَا اِنَّمَا هُمْ بَنِيّ؟ فَقَالَ : نَعَمْ! لَكِ اَجْرُ مَا اَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ. ([5])
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں ابو سلمہ کی اولادپر خرچ کروں تو کیا مجھے اجر ملے گا ، میں اُنہیں اِدھراُدھر نہیں چھوڑسکتی وہ میری اولاد ہیں۔ ‘‘فرمایا : ’’ہاں !جوتو اُن پر خرچ کرے گی تجھے اُس کااجر ملے گا۔ ‘‘
سیدتنا اُمّ سلمہ پربچوں کا نفقہ واجب نہ تھا:
[1] شعب الایمان ، باب فی الزھد وقصر الامل ، ۷ / ۲۹۸ ، حدیث : ۱۰۳۷۵۔
[2] المعجم الاوسط ، ۱ / ۴۲ ، حدیث : ۱۰۲۔
[3] کنز العمال ، کتاب النکاح ، الباب الخامس ، تربیۃ اھل البیت ، جزء : ۱۶ ، ۸ / ۱۵۹ ، حدیث : ۴۴۹۸۶۔
[4] کنز العمال ، کتاب النکاح ، الباب الخامس ، تربیۃ اھل البیت ، جزء : ۱۶ ، ۸ / ۱۵۹ ، حدیث : ۴۴۹۸۷۔
[5] مسلم ، کتاب الزکوۃ ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین۔ ۔ ۔ الخ ، ص۵۰۱ ، حدیث : ۱۰۰۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع