30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاں کسی بندے کی رضا قطعاً مقصود نہ ہو۔ غلام آزاد کرانے میں خرچ کرنا۔ اِس میں مکاتب کی امداد ، غلام کی آزادی ، مقروض کو قرض سے آزاد کرانا ، کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے کو اُس مصیبت سے نکالنا سب ہی داخل ہیں ، نہایت جامع کلمہ ہے ۔ گھر والوں پر خرچ اِن سب خیراتوں سے یا تو اِس لئے بہتر ہے کہ وہ خیراتیں نفل تھیں اور یہ خرچ فرض ہے۔ اکثر فرض نفل سے بہتر ہوتاہے یا اِس لیے کہ اِس خرچ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ، اہلِ قرابت کے حق کی ادائیگی بھی اور دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں۔ اِسی لیے بعض لوگ گیارھویں شریف وغیرہ کی شیرینی اکثر سیّدوں کو دیتے ہیں کہ یہ حضرات اولادِ رسول ہیں ، اِس میں خیرات بھی اور اولادِ رسول کے حق کی ادائیگی بھی ، اِن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ ‘‘([1])
اہل خانہ پر خرچ کرنے کے فضائل:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور کی شرح سے معلوم ہو اکہ اہل وعیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے افضل ہے کیونکہ اِس میں کئی نیکیاں جمع ہوجاتی ہیں اورجس عمل میں جتنی زیادہ نیکیاں ہوں وہ اتنا ہی زیادہ افضل ہوتا ہے ا ور بھی کئی اَحادیثِ مبارکہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہو تی ہے کہ اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے رزقِ حلال کمانا بہت فضیلت والا عمل ہے بلکہ ایسا شخص راہِ خدا میں شمار کیا جاتا ہے اوراُس کا یہ عمل بروزِ قیامت سب اَعمال سے پہلے میزان میں رکھا جائے گا۔ اِس ضمن میں2اِیمان افروز اَحادیث ملاحظہ فرمائیے :
(1) ایک شخص تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب سے گزرا تو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اُس کے پھرتیلے بدن کی مضبوطی اورچستی دیکھ کرعرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کاش! اس کا یہ حال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں ہوتا۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ہے۔ اگر اپنی پاک دامنی کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ہے اور اگردکھاوے اور تفاخر کے لئے نکلا ہے تو یہ شیطان کی راہ میں ہے۔ ‘‘([2])(2)فرمانِ مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : “ بندے کے میزان میں سب سے پہلے اُس کے اپنے گھروالوں پر خرچ کئے گئے مال کو رکھاجائےگا۔ “ ([3])
’’آدمی پر کم از کم اتنا کمانا فرض ہے جو اُس کے لئے ، اُس کے اہل وعیال کے لئے ، ادائیگی قرض کے لئے اور انہیں کفایت کر سکے جن کا نفقہ اُس کے ذمہ واجب ہے ۔ ماں باپ محتاج وتنگ دست ہوں تو اُنہیں بقدرِ کفایت کما کر دینا فرض ہے۔‘‘([4])
’’بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)دوسروں کے مقابلے میں اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے کا ثواب زیادہ ہے ۔
(2)اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے حلال رِزق کمانے وا لا راہِ خدا میں شمارکیا جاتا ہے ۔
(3)بروزِ قیامت بندے کی جو چیز سب سے پہلے میزانِ عمل میں رکھی جائے گی وہ اہل خانہ پر خرچ کیا ہوا مال ہوگا۔
(4)والدین ، اہل وعیال یااپنی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے حلال رِزق کمانا عبادت ہے ۔
(5)قرض دار کو قرضے سے نجات دِلانا ، مُصیبت زَدہ کی مصیبت دُور کرنا ، غلام آزاد کروانا یہ سب بہت اجر والے کام ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اہل خانہ اور دیگر مسلمانوں کے حقوق کی صحیح طرح سے ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دنیا وآخرت میں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 290 مال کس جگہ خرچ کرنا افضل ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع