30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت میں زمین کے واقعات دیکھتی ہیں ، دیکھو یہ لڑائی کسی گھر کی بند کوٹھڑی میں اور حُور دیکھ رہی ہے۔ (2) یہاں مِرقات نے فرمایا کہ مَلاءِ اعلیٰ دنیا والوں کے ایک ایک عمل پر خبردار ہیں ، دوسرے یہ کہ حُوروں کو لوگوں کے اَنجام کی خبر ہے کہ فلاں مؤمن متقی مَرے گا۔ (3) تیسرے یہ کہ حُوروں کو لوگوں کے مقام کی خبر ہے کہ بعدِ قیامت یہ جنت کے فلاں درجہ میں رہے گا۔ (4) چوتھے یہ کہ حُوریں آج بھی اپنے خاوند انسانوں کو جانتی پہچانتی ہیں۔ (5)پانچواں یہ کہ آج بھی حُوروں کو ہمارے دُکھ سے دُکھ پہنچتا ہے ، ہمارے مخالف سے ناراض ہوتی ہیں ، جب حُوروں کے عِلم کا یہ حال ہے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو تمام خلق سے بڑےعالِم ہیں اِن کے علم کا کیا پوچھنا؟ آج لوگ حضور کو حاضِر ناظِر ماننا شرک کہتے ہیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ حُور حاضِر ناظِر ہے۔ (6) چھٹے یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنت کے حالات حُوروں کے کلام سے خبر دار ہیں جب ہی حُور کا یہ کلام نقل فرمارہے ہیں۔ وہ ہے حُور ، حضور ہیں نُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ (7) ہر حُور دنیا کے ہر گھر کے ہر حال سے خبردار ہے مگر یہ کلام وہ ہی حُور کرتی ہے جس کا زَوج اُس گھر میں ہو۔ ‘‘([1])
’’جَنَّتِی حُور‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)ہر جنتی کو جنت میں کثیر حُور وغِلمان دیے جائیں گے۔
(2)اسلام میں نیک متقی وپرہیزگار شوہر کی بہت ہی عزت وعظمت کو بیان فرمایا گیا ہے۔
(3)نیک شوہر کو تکلیف دینا گویا جنتی مخلوق کو تکلیف دینا ہے۔
(4)نیک متقی شوہر کو تکلیف دینے والی عورت کے لیے جنتی حُور ہلاکت کی دعا کرتی ہے۔
(5)شوہر کو اَحادیث میں وارد ہونے والے تمام فضائل اُسی وقت حاصِل ہوں گے جبکہ وہ اَحکامِ شَرعِیَّہ کا پابندہو ، اپنے گھروالوں کو شریعت پر چلنے کی تاکید کرتا ہو۔
(6)جنتی حُور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے جنت میں رہتے ہوئے دنیا کے معاملات ملاحظہ کرتی ہے۔
(7)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سےحاضِر ناظِر ہیں ، دنیا والوں کے تمام اَحوال سے بھی باخبر ہیں اور جنت والوں کے اَحوال سے بھی باخبر ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شَرعِیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی بِلا حساب وکتاب جنت میں داخلہ اور وہاں کے حُور وغلِمان عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 288 سب سے نُقصان دِہ فِتنہ
عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا تَرَکْتُ بَعْدِی فِتْنَۃً ھِیَ اَضَرُّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ.[2])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنااُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ میں نے اپنے بعد مَردوں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دِہ فتنہ نہیں چھوڑا۔ “
عورت کے فتنہ ہونے کی وُجُوہات:
’’عورت سب سے زیادہ نقصان دِہ فتنہ ہے۔ ‘‘عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’عورت ناقص العقل اور ناقص الدِین ہے ، عورت آدمی کو طلبِ دِین سے غافِل کردیتی ہے ، اِس سے زیادہ نُقصان کی بات اور کیا ہوگی؟ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’عورتوں سے بچو! بے شک بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورت کی وجہ سے تھا۔ ‘‘([3])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی دنیا میں مَردوں کے لیے عورتیں بڑے فتنے کا باعث ہیں کہ عورت کے سبب آپس کی عداوت ، لڑائی جھگڑے بلکہ خونریزی بہت ہوگی ، عورت ہی حُبِ دنیا کا ذریعہ ہے اور حُبِ دنیا تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ مِنْ بَعْدِیْ فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے زمانہ میں عورتوں کے فتنہ کا ظہور صحابہ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)پر نہ ہوا کہ وہ حضرات نورِ مصطفوی سے بہت منور تھے ، بعد میں اِس کا ظہورہوا ، آج بھی عورتوں کی وجہ سے فسادوقتل وخون بہت ہورہے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ زمین میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ہوا کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو اقلیما عورت کی وجہ سے مارا۔ شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع