30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’جَنَّت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)بیوی پر شوہر کی رضا طلب کرنا اور اُس کی ناراضی سے بچنا واجب ہے۔
(2)شوہر جب بھی بلائے بیوی کو چاہیے کہ اُس کے حکم کی تعمیل میں اُس کے پاس چلی جائے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔
(3)اگر بیوی اپنے نیک متقی شوہر کی اِطاعت کرے اور وہ اُس سے راضی ہو تو ایسی بیوی وصال کے بعد جنت میں داخل ہوگی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہماری خواتین کو اپنے شوہروں کی رضا طلب کرنے اور اُن کی ناراضی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہمیں جنت میں بلا حساب وکتاب داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 287 جنتی بیوی کی بد دعا
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُؤْذِي امْرَاَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا اِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِيْنِ:لَا تُؤْذِيْهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوْشِكُ اَنْ يُفَارِقَكِ اِلَيْنَا. ([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : “ جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو جنت میں حُورِ عین میں سے اُس کی بیوی کہتی ہے کہ اِسے تکلیف مت دے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاک کرے ، بے شک وہ تو تیرے پاس مہمان ہے ، عنقریب اُسے تجھ سے جدا ہوکر ہمارے پاس آنا ہے۔ “
اِس حدیث پاک میں شوہر کی بڑی عزت وعظمت کا بیان ہے ، نیز اِس بات کا بھی بیان ہے کہ شوہر کو تکلیف دینا اتنا بُرا ہے کہ جب کوئی عورت دنیا میں اپنے نیک شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو جواب میں جنت کی حور اُسے تنبیہ کرتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے نیک شوہر کو تکلیف دینا گویا جنتی مخلوق کو تکلیف دینا ہے۔
حُورِعین اور جنتی کو ملنے والی حُوریں:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حُور بنا ہے حُوراء سے بمعنی آنکھ کی تیزسفیدی ، پتلیوں کی تیز سیاہی ، یہ چیز حُسن کا اعلیٰ درجہ ہے۔ عِین جمع ہے عیناء کی جس کا معنیٰ ہے بڑی بڑی آنکھ۔ چونکہ حُوروں کی آنکھیں بڑی اور خوب سفید و سیاہ ہیں اِس لیے اُنہیں حُورِعِین کہا جاتا ہے۔ ‘‘([2]) حضرت سیدناابُوسعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرور ِ کونَین ، دُکھی دِلوں کے چین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’سب سے ادنیٰ جنتی کو اَسی ہزار(80000) خادم اور ۷۲حوریں دی جائیں گی۔ ‘‘([3])
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’دَخِیْل کا مطلب ہے مہمان ، کہیں سے آنے والا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ تمہارا یہ شوہر دنیا میں تمہارے پاس ایک مہمان کی طرح ہے اور تم در حقیقت اُس کی اہل (گھر والی) نہیں ہو کیونکہ عنقریب وہ تم سے جُدا ہوجائے گااور اُس کے بلند مقام کی وجہ سے تم اُس سے مل نہیں پاؤگی جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ (پ۲۷ ، الطور : ۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اورجو ایمان لائے اوران کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی۔
بےشک ہم اُس کے اہل ہیں اور وہ تم سے جدا ہوکر تمہیں جہنم میں چھوڑ کر ہم سے ملنے والا ہے ہمارے پاس آنے والا ہے۔ ‘‘([4])
حدیث پاک سے ماخوذ چند اہم مسائل:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے : (1)ایک یہ کہ حُوریں نورانی ہونے کی وجہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع