30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’قرآن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اِسلام میں شوہر کی حد درجہ تعظیم اور اِطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
(2)عورت پر شوہر کے بہت اِحسانات ہوتے ہیں ، اگر وہ اُس کے حُقُوق کو کما حَقُّہ ادا کرنا چاہے تو بھی ادا نہ کرسکتی ، اِس لیے اِسے چاہیے کہ شوہر کی ہردَم اِطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلے۔
(3)اِسلام میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کو بھی سجدہ کرنا جائز نہیں ہے ، غیرُاللہ کو سجدہ عبادت کرنا کفر ہے اور سجدہ تعظیمی کرنا حرام ۔
(4)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالکِ احکام ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو اس بات کا اختیار عطا فرمایا ہے کہ جس کے لیے جو حکم چاہیں خاص فرمادیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِخلاص کے ساتھ شرعی اَحکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 286 شوہر کی رضا میں جنت
عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:اَيُّمَا امْرَاَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ. ([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سَلَمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے ، فرماتی ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ جو بھی عورت اِس حال میں اِس دنیا سے گئی کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ “
امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’بیوی پر اپنے شوہر کی رضا طلب کرنا اور اُس کی ناراضی سے بچنا واجب ہے اور شوہر جب اُسے بلائے تو اُسے منع نہ کرے کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی زوجہ کو اپنے بستر پر بلائےتو وہ جائے اگرچہ تنور پر ہو۔ ‘‘([2])
کس شوہر کی رضا، دُخولِ جنت کا سبب ہے؟
مذکورہ حدیث پاک سے بھی شوہر کی رضا و ناراضی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ جس عورت سے اُس کا شوہر راضی ہو اور خوش ہو اور اُسی حالت میں اُس کا انتقال ہوجائے تو وہ جنت میں داخل ہوگی لیکن وہ کونسا شوہر ہے جس کی رضا عورت کو جنت میں لے جائے گی؟مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہاں خاوند سے مراد مسلمان عالِم متقی خاوند ہے۔ ‘‘ یہ قیود بہت ہی مناسب ہیں ، بعض بے دِین خاوند تو عورت کی نماز سے ناراض ہوتے ہیں اُس کے گانے بجانے ، سنیما جانے ، بے پردہ پھرنے سے راضی ہوتے ہیں یہ رضا بے ایمانی ہے۔ ‘‘([3])
حدیث پاک میں اِس بات کو بیان فرمایا گیا کہ جس عورت کا شوہر اُس سے راضی ہو اور اُس کا انتقال ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ ‘‘ جنت میں داخلے کا کیا معنی ہے۔ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی مَرتے ہی رُوحانی طور پر یا بعدِ قیامت جسمانی طور پر ، کیونکہ اُس نیک بی بی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق بھی ادا کیے بندے یعنی شوہرکے حقوق بھی۔ ‘‘([4])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ ابتداءً وہ کامیاب لوگوں کے ساتھ ہوجائے گی ، ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا اور اُس سے تمام حقوق والےراضی ہوجائیں گے۔ ‘‘([5])حدیثِ پاک میں ہے : ’’اگر عورت پانچوں نمازیں پڑھے ، رمضان المبارک کے روزے رکھے ، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اُس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجا۔ ‘‘([6])
[1] ترمذی ، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ ، ۲ / ۳۸۶ ، حدیث : ۱۱۶۴۔
[2] الکبائرللذھبی ، الکبیرۃ السابعۃ والاربعون ، ص۱۷۲۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۹۷۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۹۷۔
[5] دلیل الفالحین ، باب حق الزوج علی المراۃ ، ۲ / ۱۱۳ ، تحت الحدیث : ۲۸۷۔
[6] مسند احمد بن حنبل ، حدیث عبد الرحمن بن عوف ، ۱ / ۴۰۶ ، الحدیث ۱۶۶۱ بتغیر قلیل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع