30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں ایک سوال ہوتا ہے کہ جس کے پاس کوئی اِقتدار نہ ہو اور نہ ہی اُس کے بیوی بچے ہوں وہ تو کسی پر نگران نہیں تو کیا اُس سے کوئی سوال جواب نہ ہوگا؟ اِس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ایسا انسان اپنے آپ پر نگران ہے۔ یعنی وہ اپنے اعضاء و جوارح کا ذمہ دار ہےلہٰذا اسے چاہیے کہ وہ نیک کام کرے ، بُرے کاموں سے بچے ، قولی طور پر بھی عملی اور اعتقادی طور پر بھی۔ اِس کے اَعضاء و جوارِح اِس کی رعایا ہیں لہٰذا ہر شخص سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ جس کا کرنا اور جس کام سے بچنا اُس پر لازم تھا کیا وہ اُس پر قائم رہا یا نہیں؟‘‘([1])
مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ ہرشخص خود اپنے نفس اور اپنے اَعضاء کا راعی و ذمہ دار ہے کہ اُس سے اپنے اَوقات ، اپنے حالات ، اپنے خیالات ، آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کیے؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے : )مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)( (پ۲۶ ، ق : ۱۸) (ترجمۂ کنزالایمان : کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔ )غرض یہ کہ ہر ایک سے اُس کی ذمہ داریوں کے متعلق پُرسش ہوگی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہم گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے ، پردے رکھے ، لغزشیں مُعاف کرے۔ ([2])
امام ’’ حسین‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)قیامت کے دن ہر شخص سے اُس کے ماتحت کے بارے میں سوال ہوگا ، حاکم سے اُس کی رعایا کے بارے میں ، مرد سے اُس کے بیوی بچوں کے بارے میں ، عورت سے اُس کے شوہر کے گھرکی حفاظت اور اولاد کی پرورش کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(2)بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے ، اِس لیے ماں پر لازم ہے کہ بچوں کی اچھی تربیت کرے۔
(3)اچھی اور نیک سیرت لڑکی سے نکاح کرنا چاہیے تاکہ اولاد کی تربیت اچھی ہو۔
(4)اِنسان سے اُس کے اَعضاء کے بارے میں سوال ہوگا کہ ہاتھوں کو کہاں استعمال کیا؟ پیروں سے چل کر کہاں کہاں گئے؟ زبان سے کیسی گفتگو کی ؟وغیرہ وغیرہ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ماتحتوں کے حقوق کا خیال رکھنے ، اُن کی اچھی تربیت کرنے اور ہمیں اپنے اعضاء کو صحیح جگہ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 284 شوہر بلائے تو فوراً چلی آئے
عَنْ اَبِیْ عَلِی طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَاتِهِ وَاِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ. ([3])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلق بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جب آدمی بیوی کواپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے چاہیے کہ فوراً چلی جائے اگرچہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔ “
اِس حدیث میں اِس باب کی پہلی حدیث کی طرح عورت کو شوہر کی حاجت پوری کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جب اُس کا شوہر اُسے آواز دے تو بلا تاخیر اُس کے پاس جائے دیر نہ کرے چاہے وہ تنور پر روٹی بنا رہی ہو۔ تنور پرروٹی بناتے وقت کا ہی ذکر کیوں کیا اِس کی وجہ علامہ طیبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی شرح میں کچھ یوں بیان فرمائی ہے کہ : ’’تنور پر روٹی پکانے کا ذکر اِس لیے کیا کہ یہ اُن کاموں میں سے ایک کام ہے جس کے کرتے وقت عورت کسی اور کام کی طرف توجہ نہیں کرتی ، یہاں تک کہ روٹی پکانے سے فارغ نہ ہو جائے۔ “ ([4])
ضروری کام میں مصروفیت ہو تب بھی جائے:
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی اگر کسی ضروری کام میں مشغول ہو اور مال کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہو ، تب بھی شوہر بلائے تو چلی جائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع