دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.([1])

          ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’تم سب نگران ہو اور تم میں ہر ایک سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا ، امیر نگران ہے ، مرد اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اُس کی اولاد پر نگران ہےاورتم سب نگران ہو اور تم سے تمہارے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔  ‘‘

لفظ’’راعی‘‘کے معانی:

          مذکورہ حدیث میں لفظ ’’رَاعٍ‘‘آیا ہے۔ اس کا مطلب اور معنیٰ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’راعی کے لغوی معنی ہیں چرواہا ، اصطلاح میں ہر محافظ اور حاکم کو راعی کہہ دیتے ہیں کہ جیسے چرواہا ساری بکریوں کا ذمہ دارہوتا ہے کہ اگر ایک بکری بھی ضائع ہوگئی تو بکری والا اُس سے مطالبہ کرتا ہے ، ایسے ہی رب تعالیٰ اُس سے ماتحت بندوں کے متعلق سوال فرمائے گا : ) قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا ((پ۲۸ ،  التحریم :  ۶) (ترجمۂ کنزالایمان : ’’اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ۔ ‘‘)مثلاً والد سے سوال ہوگا کہ تم نے اپنی بیوی بچوں کو رزق کیوں نہ پہنچایا؟یہ بھی سوال ہوگا کہ اُنہیں نیک کیوں نہ بنایا؟‘‘([2])

مَرد کی ذمہ داری:

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ذُو الاَمر سے مُراد صاحب اِقتدار ہیں خواہ بڑا حاکم ہو یا چھوٹا سب اِس میں شامل ہیں کہ  سب اپنے ماتحتوں پر نگران ہیں اور  اُن پر لازم ہے کہ اپنی رعایا کے معاملات پر نظر رکھیں ، اُن کے مسائل حل کریں  اور اُن کی پریشانیوں کو دُور کریں۔ اِسی طرح مَرد اپنے گھر والوں پر نگران ہےاور اپنی حیثیت کے مطابق اُن کی کفالت کرے گاکہ متوسط طبقے کا ہے تو متوسط اور اگر غنی ہے تو اُس طبقے کے لحاظ سے اور اُنہیں نیکی کا حکم دے ، بُرے کاموں سے روکے اور وہ شرعی اَحکامات سکھائے جن کی اُنہیں ضرورت ہے۔ ‘‘([3])

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مَرد سے سوال ہوگا کہ تو نے اپنی بیوی بچوں کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں؟جن کا خرچہ تیرے ذمے تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں؟ اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں؟‘‘([4])

عورت کی ذمہ داری:

مذکورہ حدیث پاک میں عورت کو بھی اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی ذمہ دار فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’عورت اپنے شوہر کے گھر کی چور ، اُچکوں سے حفاظت کرے اور (گھر کے کھڑکی دروازے بند رکھ کر) چوہے بلیوں جیسے دیگر نقصان پہنچانے والے جانوروں سےحفاظت کرے جو کہ گھروں میں گھس جاتے ہیں یونہی شوہر کے مال سے ایسا صدقہ نہ کرے جس پر شوہر راضی نہ ہو۔ ‘‘([5])

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اور عورت سے سوال ہوگا کہ تونے اپنے خاوند کی خدمت کی یا نہیں؟خاوند کے مال اور اولاد کی خیر خواہی کی یا نہیں؟بچوں کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ، اس لیے ماں پر لازم ہے کہ ان کی پرورش اور تربیت اچھی کرے ، ماں خاتون جنت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجیسی پرہیزگار بنے تاکہ اس کی اولاد جنتی نوجوانوں کے سردار سیدنا امام حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ جیسی ہونہار ہو ۔ اسی لیے اچھی لڑکیوں سے نکاح کرنا اچھا ہے کہ زمین اچھی ہو تو پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔ ‘‘([6])

بیوی کی دو اہم ذمہ داریاں:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۳ صفحات پر مشتمل کتاب احیاء العلوم جلد2 صفحہ218 پر ہے : ’’بیوی کے ذمہ شوہر کے کئی حقوق ہیں لیکن دو اُمور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں : (1) حفاظت و پردہ کرنا (کہ جہاں تک ہوسکے خود کو غیر محرموں کی نظروں سے بچائے اور اُن سے پردہ کرے۔ )۔ (2) غیر ضروری چیزوں کا مطالبہ کرنے سے بچنا اور اگر شوہر کی کمائی حرام ہو تو اُس سے بھی بچے۔ ‘‘گزشتہ زمانے میں عورتوں کی یہی عادت تھی کہ مرد گھر سے نکلنے لگتا تو اس کی بیوی یا بیٹی اس سے کہتی : ’’حرام کمائی سے بچتے رہنا ، ہم بھوک و تکلیف تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جہنم کی آگ برداشت نہیں کر سکتے۔ ‘‘

 



[1]    مسلم ،  کتاب الامارۃ ،  باب فضیلۃ الامام العادل۔ ۔ ۔ الخ ،  ص۱۰۱۶ ،  حدیث : ۱۸۲۹۔

[2]    مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۵۱۔

[3]    دلیل الفالحین ،  باب حق الزوج علی المراۃ ،  ۲ / ۱۱۱ ،  تحت الحدیث : ۲۸۴۔

[4]    مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۵۲ ۔

[5]    دلیل الفالحین ،  باب حق الزوج علی المراۃ ،  ۲ / ۱۱۱ ،  تحت الحدیث : ۲۸۴۔

[6]    مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۵۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن