دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

   (3)جس طرح نیک بیوی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت ہے اسی طرح بد اَخلاق و بد مزاج بیوی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا عذاب ہے کہ اُس کی بد مزاجی و بد اَخلاقی کی وجہ سے شوہر اذیت میں رہتا ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بیویوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں تمام غیر شرعی اَعمال سے بچائے ، ہماری ، ہمارے والدین اور ساری اُمَّت کی مغفرت فرمائے۔    آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

باب نمبر : 35                           عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل میاں بیوی میں نااتفاقی ، بات بات پر لڑائی جھگڑے ایک عام سی بات ہےاور جب ایسے دو اَفراد میں نااتفاقی پیدا ہوجائے جنہوں نے پوری زندگی ایک ساتھ ہی رہنا ہو تو پھر اُن کی زندگی بہت تلخ اور نتائج نہایت سنگین ہوجاتے ہیں۔ آپس کی یہ نا اتفاقی نہ صرف دنیا کا اَمن وسُکون تباہ وبرباد کردیتی ہے بلکہ بسا اَوقات تو دِین وآخرت کی بربادی کا سبب بھی بن جاتی ہے ، اِس نااتفاقی کا اثر نہ صرف میاں بیوی پر ہوتا ہے بلکہ اُن کی اولاد اور اُن سے متعلقہ دیگر تمام لوگوں پر بھی ہوتا ہے۔ اِس نا اتفاقی کا سب سےبڑا سبب میاں بیوی کا ایک دوسرے کے حقوق کو نہ جاننا ہے ، خصوصاً بیوی جب اپنے شوہر کی عزت وعظمت کو نہیں سمجھتی تو بات بات پر لڑائی جھگڑے معمول بن جاتے ہیں۔ ریاض الصالحین کا یہ باب عورت پر شوہر کے حقوق سے متعلق ہے اِس لیے اِس میں شوہر ہی کے حقوق بیان کئے جائیں گے۔ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے شوہر وں کے حقوق کا تحفظ کریں اور شوہروں کو ناراض کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کا وبال اپنے سر نہ لیں کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے۔  عَلَّامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّنے  اِس باب میں 1آیت اور8اَحادیث مبارکہ   بیان فرمائی ہیں۔ پہلے آیت اوراُس کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔

مَرد عورتوں پر حاکم ہیں

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ : ۵ ،  النساء : ۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان : مرد افسر ہیں عورتوں پراس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے اُن پر اپنے مال خرچ کیےتو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح  اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔

                             تفسیرِطبری میں ہے : مَرد اپنی عورتوں کو ادب سکھانےاور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حقوق اور شوہر کے حقوق اُن پر واجب ہیں ، اُن کے بارے میں باز پُرس کرنے میں اُن پرنگران ہیں۔ (اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اُن میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی)یعنی مَردوں کو اُن کی عورتوں پر اِس لیے فضیلت دی کیونکہ وہ اُن کے مہر ادا کرتے ہیں ، اُن پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں ، یہ فضیلت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مَردوں کو دی ہے ، اِس لیے مَرد عورتوں پر حاکم ہیں اور اُن پر اَحکام نافذ کرتے ہیں۔ (تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حفاظت کا حکم دیا) نیک بخت سے مراد سیدھی راہ پہ چلنے والی اور نیک اعمال کرنے والی۔ ادب والی سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ اور شوہروں کی فرمانبردار عورتیں ہیں۔ خاوند کے پیچھے حفاظت کرنے والی سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو اور شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اُن پرواجب کردہ جو حق ہے اس کی حفاظت کرتی ہیں ۔ ‘‘([1])

مَردوں کی عورتوں پر فضیلت کی وُجوہات:

تفسیرِ کبیر میں امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مَرد کو عورتوں پر کئی وجوہات کی بنا پر فضیلت حاصل ہے ، ان میں سے بعض صفاتِ حقیقیہ ہیں اور بعض احکامِ شرعیہ ہیں۔ صفاتِ حقیقی یعنی حقیقی فضائل کا حاصل دو اُمور ہیں : (1)علم : بے شک مردوں کی عقل اور ان کےعلوم زیادہ ہیں۔ (2)قدرت : اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مَرد سخت سے سخت کام کرنے پر قدرت رکھتے ہیں ، اِن دو وُجوہات کی بنا پر عقل ، سمجھ ، طاقت ، کتابت ، گھڑ سواری اور تیر اندازی میں مَردوں کو عورت پر فضیلت حاصل ہے۔ نیز مَردوں ہی میں انبیاء ، علماء ہیں ، اُنہیں میں امامتِ کبریٰ اور صغریٰ ہیں ، جہاد ، اَذان ، خُطبہ ، اِعتکاف اورحدود و قصاص میں اُن کی گواہی ، وراثت میں اُن کا حصہ عورتوں سے زیادہ ، عصبہ بننا ، قتل اور خطاءمیں دیت دینا ، اِسی طرح نکاح ، طلاق ، رُجوع اور عددِ اَزواج (ایک سے زیادہ شادی)  کا مالک ہونا اور نسب کا انہیں سے ثابت ہونا ، یہ تمام چیزیں مَرد کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ ([2])

عورت ہر ہر معاملے میں مَرد سے نصف ہوتی ہے۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے منقول ہے کہ ’’لڑکی کا دودھ لڑکے سے نصف ہوتا ہے ، لڑکی کی میراث لڑکے سے نصف ہوتی ہے ، لڑکی کی عقل لڑکے کی عقل سے نصف ہوتی ہے ، لڑکی کی شہادت لڑکے کی شہادت سے نصف ہوتی ہے ، لڑکی کی دیت



[1]    تفسیر طبری ،  پ۵ ،  النساء  ،  تحت الایۃ : ۳۴  ،  ۴ / ۶۲ ، ۵۹ملتقطاً۔

[2]    تفسیر کبیر ،  پ۵ ،  النساء  ،  تحت الایۃ : ۳۴ ،  ۴ / ۷۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن