30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)نافرمان بیوی کو اِصلاح کے لیے مارنا جائز ہے مگر نہ مارنا اور وعظ و نصیحت سے اِصلاح کرنا بہتر ہے جبکہ بلا وجہ شرعی اور بلا قصور مارنا ناجائز وحرام ہے اور کل بروزِ قیامت اِس پر پکڑ ہوگی ۔
(2)جو لوگ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں،حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
(3)شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے معاملے میں اِعتدال سے کام لے نہ تو اتنا مارے کہ وہ شکایت لے کر دوسروں کے پاس جائے اور نہ ہی اتنی ڈھیل دے کہ وہ غیر شرعی اُمُور پر دلیر ہو جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحسن طریقے سے اِصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بلا وجہ شرعی کسی کو بھی تکلیف دینے سے بچائے ، خصوصاً اپنی اَزواج کو ناجائز تکلیف دینے سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 280 دنیا کا بہترین سامان
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيرُ مَتَاعِھَا الْمَرْاَةُ الصَّالِحَةُ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : ’’دنیا سامان ہے اور اُس کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث کےتحت فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں ہے عورت شوہر کے لیے بہترین سامان اُس وقت ہے جب شوہر بیوی کو دیکھے تو وہ اُسے خوش کردے ، جب حکم دےتو اِطاعت کرےاورشوہر گھر میں نہ ہو تو بیوی اس کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔ ‘‘ ([2])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی دنیا تھوڑا سامان ہے جس کا نفع عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اگر دنیا کی قدر و قیمت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکافر کو اُس کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ ‘‘دنیا کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔ یعنی دنیا کا وہ تمام سامان کہ جس سے نفع اٹھایا جائے ، اُن میں سب سے بہتر نیک عورت ہے کیونکہ نیک عورت اُمور ِآخرت پر مددگارہوتی ہے ۔ ‘‘([3])
نیک بیوی مَرد کو نیک بنا دیتی ہے :
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’دنیا سامان ہے۔ ‘‘ کہ اِنسان اُسے بَرت کر چھوڑ جاتا ہے۔ صوفیا ئے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ ’’اگر دُنیا دِین سے مل جائے تو لازوال(ختم نہ ہونے والی ) دولت ہے ، قطرے کو ہزار خطرے ہیں ، دریا سے مل جائے تو رَوانی طغیانی سب کچھ اُس میں آجاتی ہے اور خطرات سے باہر ہوجاتا ہے۔ ‘‘ دنیا کا بہترین سامان نیک عورت ہےکیونکہ نیک بیوی مَرد کو نیک بنادیتی ہے وہ اُخروی نعمتوں سے ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ’’رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃ‘‘کی تفسیر میں فرمایا کہ ’’خدایا! ہم کو دنیا میں نیک بیوی دے ، آخرت میں اعلیٰ حور عطا فرما اور آگ یعنی خراب بیوی کے عذاب سے بچا۔ ‘‘جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے ایسی ہی بری بیوی خدا کا عذاب۔ ‘‘([4])
’’غوث‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)حدیث پاک میں نیک بیوی اِختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ نیک بیوی دنیا میں مَرد کے لئے سعادت کا باعث اور اِطاعتِ خداوندی میں معاون ہوتی ہے ۔
(2)نیک بیوی کی خصلت یہ ہے کہ جب شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے،جب حکم دےتو اطاعت کرے اور شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع