30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصحاب حواریوں کے علاوہ جماعت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت پیغمبرکو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عام صحابہ بھی بخشے اور خاص صاحب اسراربھی۔ ایسے ہی ہمارے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے صحابہ ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ، جن میں بعض خاص صاحب اسرار ہیں ، جیسے خلفائے راشدین وغیرہم۔ ‘‘([1])
(2) عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : “ حواری اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَامکے طریقے پر عمل کرتےیعنی اس کی دی ہوئی ہدایت وسیرت پر چلتے ہیں ، اس کے حکم کی اِتباع کرتے یعنی جن باتوں کا وہ حکم دیتا ہےاس پر عمل کرتے اور جن سے منع کرتا ہے ان سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘([2])
(3) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئے۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی ان صحابہ کے بعد بدعقیدہ اور بدعمل لوگ پیدا ہوتے تھے ، ایسے ہی میرے صحابہ کے بعد بھی ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ کے فضل سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ بدعملی اور بدعقیدگی سے پاک رہے۔ ‘‘([3])
امربالمعروف ونہی عن المنکر کے تین طریقے:
اس مذکورہ حدیث پاک میں دراصل امر بالمعروف یعنی نیکی کی دعوت دینےا ور نہی عن المنکر یعنی برائی سے منع کرنے کے تین طریقوں کو بیان فرمایا اسے جہاد سے موسوم فرمایا گیا ہے ، نیز اس کے عامل کو مؤمن فرمایا گیا ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے ہاتھ سے ان کے ساتھ جہاد کرتا ہے اور ان کے ظلم و فساد کو دَرہم برہم کردیتا اور بدل کر رکھ دیتا ہے وہ کامل مؤمن ہے اور جو اپنی زبان کے ساتھ ان سے جہاد کرتا ہے کہ انہیں منع کرتا ، بُرابھلاکہتا اور زبان سے انہیں نصیحت کرتاہےتو وہ بھی مؤمن ہے ، ایمانِ کامل سے اسے بھی حصہ ملتا ہے اور جو شخص اپنے دل سے ان کے ساتھ جہاد کرتا ہے کہ دل سے انہیں بُراجانتا ہے اور ان کے افعال و حالات کے مشاہدہ سے غم و الم اور دل میں اضطراب و بے چینی محسوس کرتا ہے وہ بھی مؤمن ہے ، اگرچہ بالکل نچلے درجے کا مؤمن ہے اور اس نچلے درجے کے بعد ایمان کی مقدار رائی کا ایک دانہ بھی نہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ (دل میں برا جاننا)ایمان کے مراتب میں سب سے نچلا درجہ ہے۔ ‘‘([4])
تین جماعتیں تین طرح اصلاح کریں:
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’بدعقیدہ اور بدعمل لوگوں کی اصلاح تین جماعتیں تین طرح کریں : حکام طاقت سے کہ مجرموں کو سزائیں دیں۔ اہل علم زبان سے کہ انہیں وعظ کریں۔ عوام مؤمن دل سے کہ ان سے نفرت کریں اور دور رہیں۔ تا قیامت یہ احکام جاری رہیں۔ جو انہیں دل سے برا بھی نہ جانے ان کے عقیدوں سے راضی ہو وہ انہیں کی طرح بے ایمان ہے۔ اسی لیے علماء پر فرض ہے کہ اپنی زبان اورقلم سے مسلمانوں کو بےدینوں سے نفرت دلائیں ، ان کے عقائد بتائیں اور تردید کریں۔ ‘‘([5])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یہاں ایمان کے تین مرتبے بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا ایمان کے کامل ہونےپر اور آخری ایمان کے ناقص (کم) ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ایمان کے یہ ہی تین درجے ہیں ، اگر کوئی شخص ان تین درجوں میں سے کسی میں بھی نہ ہو یعنی وہ ہاتھ یا زبان سے برائی کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتااور اس برائی کو دل میں بھی برا نہیں جانتا تووہ ایمان کے دائرے سے نکل گیا اور ان لوگوں میں داخل ہوگیا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال جانتے ہیں اور اُس کے اَحکامات کوباطل اِعتقاد کرتے ہیں۔ ‘‘([6]) مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ ضعیف ایمان کو رائی کے دانے سے مثال دینا بیانِ کیفیت کے لیے ہے ، نہ کہ بیان مقدار کے لیے ، کیونکہ ایمان باعتبار مقدار کم زیادہ نہیں ہوتا ، ہر مؤمن پورا مسلمان ہے آدھا اور چوتھائی مسلمان نہیں۔ ‘‘([7])
’’حواری‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
[1] مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۵۹۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، ۱ / ۳۹۳ ، تحت الحدیث : ۱۵۷۔
[3] مرآ ۃ المناجیح ، ۱ / ۱۵۹۔
[4] اشعۃ اللمعات ، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، ۱ / ۱۴۵۔
[5] مرآ ۃ المناجیح ، ۱ / ۱۵۹۔
[6] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، ۱ / ۳۹۴ ، تحت الحدیث : ۱۵۷ملخصاً۔
[7] مرآ ۃ المناجیح ، ۱ / ۱۵۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع