30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(5)عموماً زوجہ کی طرف سے اذیت اور تکلیف زیادہ پہنچتی ہے اِس کے باوجود خوش اَخلاق اور نرم رویہ اپنانا کمال ِایمان اور صبر کمال ہے، اِسی وجہ سے عورت کے حق میں اچھا ہونے والے شخص کو بہترین شخص قرار دیا گیا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےدعا ہے کہ وہ ہمیں حُسن اَخلاق جیسی عظیم دولت سے مالا مال فرمائے ، ہمیں ہر ایک کے ساتھ خصوصاً اپنی زوجہ کے ساتھ حُسن اَخلاق کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 279 بیویوں کو مارنے والے پسندیدہ نہیں
عَنْ اِيَاسِ بنِ عَبدِ الله بنِ اَبي ذُبَابٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:لَا تَضْرِبُوا اِمَاءَ اللهِ فَجَاءَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ : ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى اَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ في ضَرْبِهِنَّ فَاَطَافَ بآلِ رَسُولِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نِسَاءٌ كَثيرٌ يَشْكُونَ اَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : لَقَدْ اَطَافَ بِآلِ بَيتِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كثيرٌ يَشْكُونَ اَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ اُولٰئِكَ بِخِيَارِكُمْ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا اِیاس بن عبداللہ بن ذہاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں۔ ‘‘چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی تو بہت سی عورتیں اَزواجِ مُطَہّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’میرے گھر کی خواتین کے پاس بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایت لے کر آئی ہیں ، ایسے لوگ پسندیدہ نہیں ۔ ‘‘
بیوی کو مارنا تنگ دلی کا باعث ہے:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی باندیوں سے مُراد عورتیں ہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو مارنے کی مطلقاً ممانعت ہے اِسی وجہ سےامیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں ، جب سے انہوں نے مار کی ممانعت سنی۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی۔ یہ رخصت حکم کو تنگی سے آسانی کی طرف پھیرنے کے لئے ہےاور نہ مارنے کا حکم نرمی کے لئے تھا جو کہ اپنی جگہ قائم ہے۔ ’’ایسے لوگ پسندیدہ نہیں ہوتے۔ ‘‘یعنی تم میں سے وہ لوگ پسندیدہ نہیں جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں کیونکہ یہ چیز تنگ دِلی کا باعث ہے جو کہ حُسنِ اَخلاق کےخلاف ہے ۔ ‘‘([2])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘یعنی جیسے مَرد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے ہیں ، ایسے ہی عورتیں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندیاں ہیں۔ جیسے مولیٰ اپنے غلام کو مارنے والے پر ناراض ہوتا ہے ایسے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ظلمًا مارنے والے پر ناراض ہوگا ، نہ کسی مَرد کو مارو ، نہ عورت کو۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا عورتوں کےبارے میں یہ کہنا کہ عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ جب عورتوں کو پتہ لگ گیا کہ ہمارے خاوند ہم کو قطعًا نہیں مارسکتے ، تو وہ کچھ دلیر سی ہوگئیں۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اولاً قصور پر مارنے کی بھی اجازت نہ تھی اب قصور پر مارنے کی اجازت دی گئی۔ معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالِکِ اَحکام ہیں۔ بہت سی عورتیں اَزواجِ مُطَہَّرَات کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئیں۔ یہاں حدیث ِمذکور میں لفظآل سے مراد بیویاں ہیں ، قرآن شریف میں آل بیویوں کو ہی کہا گیا ہے ۔ بیویاں اہل بیت سکونت ہوتی ہیں اور بچے اہل بیت ولادت۔ یعنی عورتیں براہِ راست بارگاہِ نبوی میں حاضری کی تو ہمت نہ کرسکیں اس لیے اَزواجِ مطہرات کی خدمت میں حاضر ہو کر بالواسطہ اپنے شوہروں کی شکایت کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ قصور مند بیوی کو اِصلاح کے لیے مارنا جائز ہے مگر نہ مارنا اور وعظ و نصیحت سے اِصلاح کرنا بہتر ہے۔ بلا قصور مارنا حرام جس پر پکڑ ہوگی ، یونہی بہت مارنا بے دردی سے یہ حرام ہے ، بیوی کی سختی برداشت کرنا ، یونہی خاوند کی سختی جھیلنا اور نباہ کرنا بڑے اَجر کا باعث ہے۔ ‘‘([3])
’’نبی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع