30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس کا اَخلاق سب سے اچھا ہو اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اَخلاق ایک ایسا ملکہ ہے جو اچھے اعمال پر اُبھارتا اور عاداتِ شریفہ کا ذریعہ بنتا ہے۔ علامہ حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا : اَخلاق کی حقیقت نیکی اختیار کرنا ، تکلیف دہ شے کو دُور کرنا اور خوش مزاجی سے پیش آنا ہے۔ ‘‘ ابو ولید باجی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’پاس بیٹھنے والے یا آنے والے کے لئے پانچ باتیں ظاہر کرنا اَخلاق ہے : (1) خوشی (2) حوصلہ(3) شفقت(4)تعلیم پر صبر(5)چھوٹے بڑے سے محبت۔ ‘‘([1])
حُسنِ اخلاق سے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : (1)حسن اخلاق نیکی ہے اور جو تیرے دل میں کھٹکے اور جس بات پر لوگوں کا مطلع ہونا تجھے ناپسند ہو وہ گناہ ہے ۔ ‘‘([2]) (2)’’ کامل ترین مؤمن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہترہوں اور جو اپنے گھر والوں پر سب سے زیاد ہ نرمی کرنے والا ہو۔ ‘‘([3]) (3) ’’کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین شخص کون ہے ؟‘‘عر ض کی گئی : ’’ کیوں نہیں یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!‘‘ فرمایا : ’’تم میں سے عمر رسیدہ اور زیادہ حسن اَخلاق والا۔ ‘‘([4])
بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا:
’’اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘علامہ ابن اثیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں : ’’حدیثِ پاک میں صلہ رحمی کرنے اور اس پر اُبھارنے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی بیوی سے خوش اخلاقی سے پیش آئے اور اس کو ایذا نہ دے اور اس پر احسان کرے اور اس کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کرے۔ چنانچہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اہل کے لئے سب سے زیادہ اچھے اور ان کے اختلاف ِ احوال پر سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے ۔ ‘‘([5])
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاشعۃ المعات میں مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’عورتوں کےحق میں جو اچھے ہیں انہیں بہترین اس لیے فرمایا گیا کیونکہ عورتوں کی طرف سے اذیت اور تکلیف زیادہ پہنچتی ہے اس کے باوجود خوش اخلاقی اور نرم رویہ اپنانا ایمان اور صبر کمال ہے۔ ‘‘([6])
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’حسن اخلاق وہ عادت ہے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی راضی رہیں اور مخلوق بھی ، یہ ہے بہت مشکل مگر جسے یہ نصیب ہو جائے اس کے دونوں جہان سنبھل جاتے ہیں۔ ’’اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘کیونکہ بیوی صرف خاوند کی خاطر اپنے سارے میکے والوں کو چھوڑ دیتی ہے اگر خاوند بھی اس پر ظلم کرے تو وہ کس کی ہو کررہے؟کمزور پر مہربانی سنتِ اِلٰہیّہ بھی ہے سنتِ رسول بھی۔ ‘‘([7])
’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ہرکسی کے ساتھ حُسنِ اَخلاق سے پیش آنا چاہیے کیونکہ حُسنِ اَخلاق کو کامل مؤمن ہونے کی ایک نشانی بیان فرمایا گیاہے۔
(2)اچھائی اختیار کرنا، تکلیف دہ شے کو دُور کرنا اور دوسروں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا بھی حُسنِ اَخلاق میں شامل ہے۔
(3)حُسنِ اَخلاق ایک ایسا ملکہ ہےجو اِنسان کو اچھے اَعمال پر اُبھارتا اور عاداتِ شریفہ کا سبب بنتا ہے۔
(4)اپنی زوجہ کےساتھ بھی حُسنِ اَخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے، اُسے تکلیف نہ دینا، اُس پر اِحسان کرنا، اور اُس کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کرنا بھی اُس کے ساتھ حُسنِ اَخلاق ہے۔
[1] دلیل الفالحین ، باب فی الوصیۃ با النساء ، ۲ / ۱۰۵ ، تحت الحدیث : ۲۷۹۔
[2] مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب تفسیر البر والاثم ، ص ۱۳۸۲ ، حدیث : ۲۵۵۳۔
[3] ترمذی ، کتاب الایمان ، باب ماجاء فی استکمال الایمان ، ۴ / ۲۷۸ ، حدیث : ۲۶۲۱۔
[4] صحیح ابن حبان ، کتاب البر و الاحسان ، باب حسن الخلق ، ۱ / ۳۵۲ ، حدیث : ۴۸۴۔
[5] دلیل الفالحین ، باب فی الوصیۃ با النساء ، ۲ / ۱۰۵ ، تحت الحدیث : ۲۷۹۔
[6] اشعۃ المعات ، کتاب النکاح ، باب عشرۃ النساء ، ۳ / ۱۵۶۔
[7] مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۱۰۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع