دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

تم ایسے کام پر کیوں ہنستے ہو ؟جو خود  بھی کرتے ہو ، کیونکہ ہنسنا تو کسی عجیب بات پر ہوتا ہے جبکہ ہوا کا خارج ہونا یہ ہر انسان میں عادۃًپایا جاتا ہے تو پھر  ایسے کام پر ہنسی کا کیا معنی جس کو  وہ خود بھی کرتا ہے؟‘‘([1])

اَسلاف کا بے مثال طرز عمل:

 “ مرقاۃ المفاتیح “ میں ہے : “ حضرت سیدنا حاتم اَصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہرے نہ تھے ، ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ نے آپ سے ایک مسئلہ پوچھا ، اِس دوران اُس کی ریح خارج ہو گئی۔ اس پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے(اپنی زوجہ کو شرمندگی سے بچانے  کے لئے) فرمایا : بلند آواز سے کہو ، مجھے اونچاسنائی دیتا ہے۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زوجہ سمجھیں کہ شاید آپ بہرے ہیں ، اس پر وہ خوش ہو گئیں۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہساری زندگی اپنی زوجہ کو شرمندگی سے  بچانے کے لئے بہرے ہی بنے رہے۔ ‘‘ علامہ طیبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’عقلمند شخص کو چاہیے کہ جب وہ اپنے مسلمان بھائی میں عیب نکالنے  کا ارادہ کرے تو پہلے اپنی ذات کو دیکھ لےکہ وہ خود اس عیب سے پاک ہے یا نہیں؟اگر نہیں ، تو بہتر ہے کہ دوسرے کی ذات میں بھی عیب نہ نکالے۔ ‘‘([2])

مدنی گلدستہ

’’حق العبد‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

   (1)عورتوں خصوصاً بیویوں پر ظلم وتشدد کرنے کی اسلام میں سختی سے ممانعت ہے۔

   (2)شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی زوجہ کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرے اور بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کےحقوق کو کما حقہ ادا کرے، حقوق العباد کی تلفی ناجائز وحرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

   (3)اگر بالفرض بیوی شوہر کے حقوق ادا نہ بھی کرے تو شوہر کو اس پر صبر سے کام لینا افضل ہے۔

   (4)بیوی کی نافرمانی کی صورت میں اسے ضرورتاً مارنا جائز ہے لیکن نہ مارنا افضل ہے۔

   (5)اگر بیوی نافرمان ہو تو شرعی طور پر شوہر اَوّلاً اس سے بات چیت بند کردے، پھر بستر الگ کردے اور جب کسی بھی صورت اس کی نافرمانی نہ ختم ہوتی ہوتو طلاق کا راستہ اختیار کرے لیکن اس کے لیے بھی شرعی راہنمائی لینی ضروری ہے تاکہ طلاق دینے میں غیر شرعی اُمور کا ارتکاب لازم نہ آئے۔

   (6)زوجین یعنی میاں بیوی کا رشتہ الفت ومحبت کا ہے، مار پیٹ نفرت کا باعث ہےاسی وجہ سے  حدیث پاک میں اس کی مذمت فرمائی گئی ۔

   (7)ریح خارج ہونا ایک فطری عمل ہے، لہذا اس معاملے میں کسی بھی مسلمان کا مذاق اڑا کر اس کی دل آزاری کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، جب اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اپنی ذات پر غور کرے کہ یہ کام تو مجھ سے بھی صادر ہوتا ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ازواج کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان پر ظلم وتشدد کرنے کے بجائے اچھے طریقے سے ان کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ان کی زیادتیوں پر صبر وشکر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                          آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 275                                                                  کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے بُغض نہ رکھے

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً اِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقاً رَضِيَ مِنْهَا اٰخَرَ اَوْ قَالَ :  غَيْرَهُ . ([3])

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے بُغض نہ رکھے ، اگر اُسے اِس کی کوئی ایک بات  نا پسند ہو تودوسری پسند ہوگی ۔ ‘‘یا یہ فرمایا : ’’کوئی بات ناپسند ہوتو اس کے علاوہ کوئی بات پسند بھی ہوگی۔ ‘‘

عورتوں کی بُرائیوں سے درگزر کرو:

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : “ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی سے بُغض وعناد نہ رکھے ، اگر اس کی کوئی خصلت نا پسند ہے تو اس میں پسندیدہ عادات بھی پائی جاتی ہیں۔ حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ شوہر  کی شان کا تقاضا یہ ہےکہ وہ زوجہ کے ساتھ اس طرح کا بغض نہ  رکھے جو کہ ان دونوں کو جُدائی پر اُبھارے ، بلکہ ضروری



[1]   دلیل الفالحین ،  باب فی  الوصیۃ بالنساء ،  ۲ /  ۹۹ ،  تحت الحدیث : ۲۷۵۔

[2]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب  انکاح ،  باب عشرۃ النساء ،  ۶ / ۳۹۱ ،  تحت الحدیث : ۳۲۴۲۔

[3]   مسلم ،  کتاب الرضا  ،  باب  الوصیۃ با النساء  ،  ص ۷۷۵ ،  حدیث : ۱۴۶۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن