30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شوہر ہوگا جو اَحکامِ شرعیہ کی عدم تکمیل اور غیر شرعی اُمور پر بیوی کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہو بلکہ یہاں تو سالن میں نمک مرچ کم یا تیز ہوجائے ، کھانا دیر سے ملا ، کپڑے استری نہ ہوئے ، لباس اچھی طرح نہ دُھلا ، پانی لانے میں دیر ہوگئی یا ٹھنڈا نہ تھا ، جھاڑو دینے میں کچھ کوتاہی ہوگئی یا ساس ونندوں کی جھوٹی سچی شکایت پر بغیر تصدیق کئے بیوی کو مار مار کر بُرا حشر کردیا جاتا ہے۔ یاد رہے اگر بیوی سے واقعی ایسا قصورہوبھی جائے جس میں شریعت نے مارنے کی اجازت دی ہےتو وہاں بھی نہ مارنا افضل ہے جیسا کہ “ تفسیر کبیر “ میں ہے : “ امام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا : بیوی کو مارنا مباح ہے لیکن نہ مارنا افضل ہےلیکن اگر مارے تو اتنا نہ مارے کہ ہلاکت تک پہنچادے مثلاً بدن پر الگ الگ مقام پر مارےایک ہی جگہ نہ مارےاور چہرے پر مارنے سے بچے۔ بُنے ہوئے رومال یا ہاتھ سے مارے ، کوڑا اور ڈنڈا نہ استعمال کیاجائےالغرض ہلکے سے ہلکا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ‘‘میں کہتا ہوں (یعنی امام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی )فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ مجید میں پہلے بیویوں کو سمجھانے کا حکم دیا پھر بستروں سے علیحدگی کو بیان کیااور آخر میں مارنے کی اجازت دی تو یہ اِس بات پر صراحۃً تنبیہ ہے کہ نرمی سے غرض حاصل ہوجائے تو اُسی پر اِکتفا لازم ہے سختی اختیار کرنا جائز نہیں۔ ‘‘([1])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں غلاموں اور لونڈیوں کو ادب سِکھانے کے لئے سخت سزا دینے کی طرف اِشارہ ہے جبکہ بیویوں کو ہلکی سزا کے ساتھ ادب سکھانے کی طرف اِشارہ ہے۔ حدیث پا ک سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ عقلمند شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ دن میں عورت کو مارے اور پھر اُسی دن یا رات میں عورت کے ساتھ جماع بھی کرے کیونکہ جماع کرنا اُسی وقت ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں جبکہ مار پیٹ نفرت کا باعث ہے۔ اسی وجہ سے حدیث پاک میں مار پیٹ کی مذمت فرمائی گئی۔ ‘‘([2])
ضرب شدید سے مارنا مکروہ تحریمی ہے:
فقیہ اعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ بات مناسب نہیں کہ بیوی کو مارے پیٹے اور پھر اُسی روز اُس سے جماع بھی کرے لیکن یہاں ایک اشکال ہے کہ اس حدیث شریف میں عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ، حالا نکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : ’’انہیں مارو۔ ‘‘اس کا جواب یہ ہے کہ کتاب و سنت میں مخالفت نہیں ، کیونکہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ عورتوں کو اتنا مارنا مکرو ہ تحریمی ہے جو انہیں زخمی کردے اور قرآن ِ کریم نے اس کی تائید کی ہے کہ انہیں ضرب شدید نہ مارو۔ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عورتوں کو مارنے اور غلاموں کے مارنے میں فرق کیا ، کیونکہ غلامی اور آزادی کا حال ایک دوسرے کے مخالف ہے۔ الحاصل عورتوں کو ضربِ شدید سے مارنا مکروہ تحریمی ہے اور تادیب یعنی ادب سکھانے کے لئے مطلق ضرب(مارنا)جائز ہے۔ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث مباحثہ کرنا ، لڑائی جھگڑے ہونا تقریباً ہر گھر کی کہانی ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول جہاں سنتوں کی ترویج واشاعت میں کوشاں ہے ، وہیں معاشرتی اُمُور کی بہتری میں بھی نمایاں کردار ادا کررہا ہے ، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوچکا ہے ، کل تک جنہوں نے اپنے گھر کو لڑائی جھگڑے کرکے میدانِ جنگ بنایا ہوا تھا ، آج وہی لوگ عفو ودرگزر ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی برکت سے اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنا چکے ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں اور دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتب ورسائل کا خود بھی مطالعہ کریں اور اپنے گھر کے دیگر تمام افراد کو بھی ترغیب دلائیں : (1) گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے؟ (2) ناچاقیوں کا علاج (3) غصے کا علاج (4) تنگدستی کے اَسباب اور اُن کا حل (5) گھر کا افسر (6) بیوی کو کیسا ہونا چاہیے؟ (7) غیرت مند شوہر (8) پردے کے بارے میں سوال جواب (9) میں سدھرنا چاہتا ہوں (10) عفوودرگزر کی فضیلت (11) شیطان کے بعض ہتھیار (12) گناہوں کا علاج (13) اِحترامِ مسلم (14) ساس بہو میں صلح کاراز (15) گانے باجے کی ہولناکیاں۔ اِن کتب کے مطالعے کی برکت سے اپنی اور گھر کے تمام افراد کی اصلاح اور گھریلو ناچاقیوں کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
ریح کے خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں تنبیہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے آخری حصے میں کسی کے ریح خارج ہونے پر جو لوگ ہنستے یا اس کا مذاق وغیرہ اڑاتے ہیں انہیں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ تو ایسا امرہے جو خودہنسنے والوں کے ساتھ بھی بسااوقات پیش آتا ہی رہتا ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آواز کے ساتھ ہوا کے خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی کیونکہ یہ کام خلاف مروّت ہے کہ اس میں کسی کی عزت کا مذاق بنانا ہے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع