30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے بارگاہِ رب العزت میں دعا کی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ ایک پتھر سے بحکم اِلٰہی اونٹنی پیدا فرمائی ، یہ اونٹنی بہت سے عجائبات پر مشتمل تھی کہ عظیم الجثہ پیدا ہوئی ، پیدا ہوتے ہی بچہ جنا اور اتنا کثیر دودھ دیتی کہ پوری قومِ ثمود کو کافی ہوتا۔ اِس ناقہ کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قوم ثمود کو حکم دیا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ورنہ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ الغرض اُن لوگوں نے ناقہ کی کُونچیں کاٹ دیں تو حضرت سیدنا صالح عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ ’’تم اِس کے بعد تین روز زندہ رہو گے۔ پہلے روز تمہارے سب کے چہرے زَرد ہو جائیں گے ، دوسرے روز سُرخ ، تیسرے روز سیاہ ، چوتھے روز عذاب آئے گا۔ چنانچہ ا یسا ہی ہوا ، یک شنبہ(اتوار) کو دوپہر کے قریب آسمان سے ایک ہَولناک آواز آئی جس سے اُن لوگو ں کے دل پھٹ گئے اور سب ہلاک ہو گئے۔ مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ہے جس میں اُس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے بدبخت کا ذکر ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے الفاظ کےتحت فرماتے ہیں : ’’اس اونٹنی کو زخمی کرنے والے شخص کا نام قذار بن سلف ثمودی تھا جو کہ قوم ِ ثمود کا سب سے بڑا بد بخت انسان تھا۔ ‘‘([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام میں جہاں دیگر حقوق بیان فرمائے گئے ہیں وہیں زوجین یعنی میاں بیوی کے حقوق بھی تفصیل سےبیان فرمائے گئے ہیں ، بیوی اپنے شوہر کی برابری کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فیصلے کے مطابق شوہر کی برتری تسلیم کرے اور اُس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے جبکہ شوہر اپنی ذمّہ داری کا اِحساس کرتے ہوئے بیوی کے نان ، نفقہ ودیگر حُقُوق ادا کرنے میں کوئی کَسَر نہ چھوڑےتو کافی حد تک لڑائی جھگڑوں کا سدِّ باب ہوسکتا ہے ۔ گھر کا اَفْسَر اور حاکم ہونے کی حیثیت سے شوہر اِس بات کو مدِّ نظر رکھے کہ اگربیوی نافرمانی کرتی ہے تو فوراً اُسے مارنے یاطلاق کا پروانہ دے کر رخصت کرنے کے بجائے وہ اس معاملے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کے مطابق حل کرے۔ سب سے پہلے اُسے اچھے طریقے سے سمجھائے ، اگر نہ سمجھے تو بستر الگ کرکے ناراضی کا اظہار کرے ، پھر بھی نہ مانے تو اب شریعت نے گھر ٹوٹنے سے بچانے کےلئے معمولی طریقے سے مارنے کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ مارنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شوہربیوی پر خونخوار بھیڑئیے کی طرح حملہ آور ہوجائے اور مار مار کر اس کی ہڈی پسلی ایک کرکےظلم وستم کی ساری حدیں پار کردے ، بلکہ شریعت کی متعین کردہ حُدود کے اندر رہ کر فقط اِصلاح کی غرض سے مارا جائے یہ نہ ہو کہ مارنے کی اجازت تو یاد رہے مگر اس کی حُدود بھلادی جائیں۔ ایسا کرنا سراسرخواہشاتِ نفسانی کی پیروی ہے۔ آئیے! شریعت کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کون سی صورتیں ہیں جِن میں بیوی کو مارنے کی اجازت ہے۔
کن صورتوں میں مارنے کی اجازت ہے؟
(1) عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’عورتوں کو مارنے میں حد سے تجاوز کرنا مکروہ ہےاور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’عورتوں کو غلام کی طرح نہ مارا جائے۔ ‘‘عورت کو مارنا اُس وقت جائز ہے جب وہ شوہر کو جماع سے منع کرےیونہی خدمت نہ کرنے پر بھی مارا جائےگا کیونکہ عورت کے لئے مرد کی(خواہش پر جماع کے لئے راضی ہونا جس طرح واجب ہے اسی طرح ) خدمت کرنا بھی عرفاً واجب ہے۔ ‘‘([2])
(2) فتاویٰ قاضی خان میں ہے : ’’چار وجوہات کی بنا پربیوی کو مارنے کی اجازت ہے : (۱)شوہر بناؤ سنگھار کرنے کا حکم دے پھر بھی وہ نہ کرے۔ (۲) شوہر ہمبستری کرنا چاہے اور وہ نہ کرنے دے جبکہ شرعی مجبوری بھی نہ ہو۔ (۳) نماز نہ پڑھے یاجنابت وحیض کے بعد غسل نہ کرے کیونکہ یہ نماز نہ پڑھنے جیسا ہی ہے۔ (۴) مہر کی ادائیگی کے باوجود وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے چلی جائے۔ ‘‘([3])
(3) فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگر عورت گھر کی خدمت میں تقصیر (کو تاہی )کرے ، مثلاًآٹا نہ گوندے ، روٹی نہ پکائے ، گھر کی صفائی نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔ اِسے مارنے میں علماءکے مختلف اَقوال ہیں : قیاس چاہتا ہے کہ اِن اُمور ِخانہ کی عدم تکمیل(یعنی نہ کرنے )پر مارنا جائز ہے ، کیونکہ جب شوہر سے امتناع مباشرت(جماع نہ کرنے)کے سبب مارنا جائز ہے تو خدمت ضروریہ کی تقصیر کے سبب بھی مارنا جائز ہے۔ ‘‘([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا تمام اُمور میں جب اور کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو شوہر کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر افسوس !آج کل معاشرے میں شاید ہی کوئی ایسا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع