30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تم ضرورنیکی کی دعوت دیتے رہنا اوربرائی سے منع کرتے رہنا (اگرتم نے ایسانہ کیا تو)قریب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے ، پھرتم اس سے دعامانگتے رہو گے لیکن قبول نہ ہوگی۔ ‘‘([1])(2)حضرتِ سیِّدُنا جریربن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی پاک ، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئےسنا : “ جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں اوروہاں ایسے لوگ موجودہوں جوانہیں بدلنے پر قادر ہوں اورپھربھی نہ بدلیں تواُن کی موت سے پہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن پراپنا عذاب نازل فرمائے گا۔ “ ([2])
’’بھلائی‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)کسی بھی بُرائی کو دیکھ کر اُسے جس طرح ممکن ہو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2)سب سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ، ورنہ زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی روکنے پر قدرت نہ ہو تو پھر دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔
(3)زبان سے روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ کرنے والے سے کہے کہ فلاں گناہ سے باز آجا ، مثلاً شراب پینے والے سے کہے کہ تو شراب نہ پی یا شراب پینے سے باز آجا ، یا اسے گناہ سے متعلق وعید اور نقصان سے آگاہ کرے۔
(4)برائی کو دل میں برا جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً وہ خود اس گناہ یا برائی سے باز رہنے کا ارادہ کرے اور پھر یہ ذہن بنائے کہ جب بھی اس برائی کو ہاتھ یازبان سے روکنے پر قدرت حاصل ہوئی تو اسے ضرور روکوں گا ، نیز اس برائی کی اپنے دل میں نفرت پیدا کرے۔
(5)کسی کو گناہ سے روکنے کے لیے اس کی حالت کا اعتبار کرتے ہوئے وہ طریقہ اختیار کیا جائے جس پر اسے استطاعت ہو۔
(6)دل میں برائی سے نفرت کرنا ایمان کا کمزور درجہ ہے ، تو جس کے دل میں نفرت نہیں گویا وہ ایمان کے کمزور درجے سے بھی محروم ہے ، اسی وجہ سے فرمایا گیا کہ دل میں گناہ کی نفرت نہ ہونا دل سے ایمان نکل جانے کی علامت ہے ، لہذا برائی کو کم ازکم دل میں برا ضرور جاننا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں امر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم دینے و نہی عن المنکر یعنی برائی سے منع کرنے کی توفیق عطافرمائے اور اپنی استطاعت کے مطابق بُرائیوں کا خاتمہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 185 ہاتھ ، زبان اور دِل سے جِہاد کرو
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّہَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِیَدِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِلِسَانِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِقَلْبِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَلَیْسَ وَرَاء َ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍٍ. ([3])
ترجمہ : حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اس کی اُمّت میں مبعوث فرمایا ، اس کے اس اُمّت میں سےایسے حواری(یعنی مددگار) اور رفیق ہوئے ، جواس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے طریقے پرعمل کرتے اور اس کے حکم کی اِتباع کرتے۔ پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئے جوایسی بات کہتے جس پر خودعمل نہ کرتے اور ایسے کام کرتے جن کاانہیں حکم نہیں دیاگیا۔ پس جس شخص نےان کے ساتھ ہاتھ سے جہادکیا وہ مؤمن ہے ، جس نے اُن کے ساتھ زبان سے جہادکیا وہ بھی مؤمن ہے اور جس نے اُن کے ساتھ دل سے جہاد کیا وہ بھی مؤمن ہے۔ اوراس سے نیچے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ ‘‘
انبیائے کرام اور اُن کے حواری:
(1)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ یہاں شریعت اورتبلیغ والے نبی مراد ہیں جن کی باقاعدہ اُمّت تھیں اور یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع