30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَخلاق کھانے پہننے پاس رکھنے اور ایسے اُمور میں برابری کرنا اختیار ی ہے ، ان اُمور میں دونوں کے ساتھ یکسا ں سلوک کرنا لازم و ضروری ہے ۔ ‘‘([1])
حدیث نمبر : 273 عورتوں سے حُسنِ سُلُوک کی وَصِیَّت
َعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ وَسَلَّم : اِسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ خَيْراً فَاِنَّ الْمَرْاَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ مَا فِي الضِّلَعِ اَعْلَاهُ فَاِنْ ذَهَبْتَ تُقِيْمُهُ كَسَرْتَهُ وَإنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بالنِّساءِ.([2]) وَفِي رَوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ:الْمَراَِةُ كالضِّلَعِ اِنْ اَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَاوَاِن اسْتَمتَعْتَ بِهَااسْتَمتَعْتَ وفِيْهَا عِوَجٌ.([3]) وَفِيْ رَوَايَةٍ لِمُسْلِـمٍ : اِنَّ الْمَراَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ لَنْ تَسْتَقِيْمَ لَكَ عَلَى طَرِيْقَةٍ فاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفيهَا عِوَجٌ واِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهاوَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا. ([4])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’عورتوں سے حسن سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہےاور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ دوگےاور اگر اسی طرح چھوڑ دو تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی لہٰذا عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ ‘‘
بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے : ’’عورت پسلی کی مانند ہے ، اگر اسے سیدھا کروگے تو توڑ دوگےاور اگر تم اس سے نفع اٹھانا چاہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نفع اٹھاؤ۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ ایک راستے پر ہر گز سیدھی نہیں رہ سکتی لہٰذا اگر تم اُس سے نفع اٹھانا چاہو تو اُس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اٹھاؤگےاور اگر سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑدوگے اور توڑنے سے مراد طلاق ہے ۔ ‘‘
عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیاہے:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’عورت کو ایک پسلی سے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامکو جنت میں رکھا تو ایک مدت کے بعد اُن کو گھبراہٹ ہوئی تو انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے تنہائی کی شکایت کی ، پس انہوں نے خواب میں ایک حسین عورت کو دیکھا پھر جب وہ نیند سے بیدارہوئے تو وہ اُن کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ حضرت سیدناآدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اُن سے پوچھا : ’’تم کون ہو؟‘‘انہوں نے کہا : ’’میں حواء ہوں۔ ‘‘مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِس لئے پیدا کیا تا کہ آپ مجھ سے سکون حاصل کریں اور میں آپ سے سکون حاصل کروں ۔ ‘‘حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بیان کیاکہ ’’ حضرت سیدتنا حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حضرت سیدناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پسلی سے پیدا کیا گیا ۔ ‘‘ مقاتل بن سلیمان نے کہا : ’’حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام جنت میں سو گئے تو حضرت سیدتنا حواءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو اُن کی دائیں جانب سے بغیر کسی درد کے پیدا کیا گیا ، اگر انہیں درد ہوتا تو کبھی کوئی مرد عورت پر رحم نہ کرتا۔ ‘‘([5])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کےتحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں یہ دلیل ہے کہ حضرت سیدتنا حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ ‘‘اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ارشاد فرمایا : ’’عورت کو پسلی سےپیدا کیا گیا ہے۔ ‘‘ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ، ان پر اِحسان کرنا ، ان کی بد اخلاقی ا ور عقل کی کمزوری پر صبر کرنا اور بلا سبب ان کو طلاق دینے کو نا پسند کرنا اور اس بات کی خواہش نہ رکھنا کہ یہ بالکل سیدھی ہو جا ئے گی۔ ‘‘([6])
عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ گویا کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ تعلیم فرمائی کہ عورتوں سے اُسی وقت فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے جب تم اُن کی بد سلوکی پر صبر کرواور میں تم کو عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں لہٰذا تم میری وصیت کو قبول کرواور اس پر عمل کرو۔ ‘‘امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’عورت کوچاہیے کہ اپنے خاوند کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرے اور مرد کو چاہئے کہ اپنی زوجہ سے اچھے اخلاق سے پیش آئے اور عورت کے ساتھ حسن خلق یہ نہیں کہ عورت کوتکلیف نہ دے بلکہ حسن خلق یہ ہے کہ عورت کے غصے اور اس کی ایذا کو برداشت کرےاور اس میں اللہ1کے محبوب ،
[1] خزائن العرفان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۲۹۔
[2] بخاری ، کتاب النکاح ، باب المداراۃمع النساء ، ۳ / ۴۵۷ ، حدیث۵۱۸۵ ، ۵۱۸۶ ۔
[3] بخاری ، کتاب النکاح ، باب الوصاۃ بالنساء ، ۳ / ۴۵۷ ، حدیث۵۱۸۴۔
[4] مسلم کتاب الرضاع ، باب الوصیۃ بالنساء ، الحدیث ۱۴۶۸ ص ۷۷۵ ، ۷۷۴ ۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب احا دیث الانبیاء ، باب خلق آدم و ذریتہ ، ۱۱ / ۱۴ ، تحت الحدیث : ۳۳۳۱۔
[6] شرح مسلم ، کتاب ، باب الوصیۃ بالنساء ، ۵ / ۵۷ ، الجزء العاشر ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع