30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمدۃ القاری میں ہے : ’’کمزور بندوں کی دعا سے مدد اور رزق دیا جاتا ہے ، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی عبادت اور دعا میں شدید اِخلاص اور کثیر خشوع ہوتا ہے کیونکہ اُن کے دل دنیا کی آرائش اور ا ُس کی زینت کے ساتھ تعلق رکھنے سے خالی ہوتے ہیں اور اُن کے پوشیدہ اَحوال اُنہیں رب تعالیٰ سے دُور کر دینے والی چیزوں سے خالی ہوتے ہیں ، اُنہوں نے اپنے تمام مقاصد کو ایک بنا دیا ( کہ بس رب تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ) اِسی لئے اُن کے اعمال پاکیزہ کر دئیے گئے ہیں اور اُن کی مانگی ہوئی دعائیں مقبول ہیں۔ ‘‘([1])
’’فقر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے رب کی عطا سے ہمارے دلوں کے اَحوال سے بھی ہردم باخبر ہیں۔
(2)جنہیں مال و دولت اور شجاعت و بہادری کی نعمتیں عطا ہوئی ہیں انہیں فقیرا ور کمزور مسلمانوں پر فخر و تکبر اور بڑائی کا اظہار کرنے کے بجائے اُن کی تعظیم و توقیر کرنی چاہیے۔
(3)ربّ تعالیٰ کے نیک بندے اُس کی نعمتیں مثلاً رزق،مدد اور بارش وغیرہ ملنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فقیر اور کمزور مسلمانوں پر فخر وتکبراور بڑائی کا اظہار کرنے کے بجائے اُن کی تعظیم وتوقیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے بندوں کے سبب ہمارے رِزق ، آل اولاد ، جان مال سب میں برکتیں عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 272 کمزوراور بے بس لوگوں کا وسیلہ
وَعَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِررَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُوْلُ : اِبْغُوْنِي الضُّعَفَاءَ فَاِنَّمَا تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ بِضُعَفَائِكُمْ. ([2])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا ابو درداء عویمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تم مجھے کمزور اور بے کس لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ‘‘
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا پانے کا ذریعہ:
علامہ ملاعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ اے لوگو!تم فقراء کے ساتھ احسان اور مظلوموں کی داد رسی کر کے میری رضاتلاش کرو کیونکہ تم میں کمزور لوگوں کے موجود ہونے کی برکت سے تمہیں حسی اور معنوی رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے ظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کی جاتی ہے ۔ ‘‘([3])
’’فقراء‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)فقراء ومساکین ، مظلوموں اور بے کسوں کے ساتھ اِحسان کرنا اللہ1 اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
(2)حسی اور معنوی رزق اورظاہری و باطنی دشمنوں کے خلاف مدد ا فقراء کی برکت سے ملتی ہے۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے اُس کے مجبور وبے کس بندوں کی مدد کرنابلا شبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ورسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو راضی کرنے والا ایک نیک عمل ہے۔
(4)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہے۔
(5)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بعض ایسے بھی مقبول بندے ہوتے ہیں جن کی داد رسی او رمدد کرنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا پوشیدہ ہوتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی غریبوں فقیروں ، مظلوموں اور بے کسوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
باب نمبر : 34 بیویوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع