30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِسلام نے اس کے ایسے حقوق بیان فرمائے کہ وہی عورت اب معاشرے کی عزت وعظمت سمجھی جانے لگی ، اِسلام نے عورت کے فقط عورت ہونے کے ناطے نہیں بلکہ اس کی مختلف جہات سے حقوق بیان فرمائے ، اِسلام نے عورت کے ماں ہونے کے اعتبار سے بھی حقوق بیان فرمائے ، بیٹی ہونے کے اعتبار سے الگ حقوق بیان فرمائے ، بہن ہونے کے اعتبار سے الگ حقوق بیان فرمائے ، بیوی ہونے کے اعتبار سےجداحقوق بیان فرمائے ، الغرض اسلام ہی وہ پیارا مذہب ہے جس نے عورت کی عظمت کو زندہ کیا ، اُس کی عزت کو جلا بخشی ، کاش ہم اِسلام کے اَحکام پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اِس کی عظمت کو سمجھنے والے بن جائیں ، بلا وجہ کے اِعتراضات کے بجائے اِس کی حکمتوں کو سمجھنے والے بن جائیں ، جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیار ی میں مشغول ہوجائیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا والے کاموں میں لگ جائیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین
’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس کے لیے جو چاہیں حلال یا حرام فرمادیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا رب تعالیٰ ہی کا حلال یا حرام قرار دینا ہے۔
(2)دِین اِسلام وہ پیارا دِین ہے جس نے معاشرے کے تمام لوگوں کے حقوق کو بیان فرمایا۔
(3)اسلام نے اُن تمام لوگوں کے حقوق کو تفصیل سے بیان فرمایا جنہیں زمانہ جاہلیت میں کسی بھی قسم کا کوئی حق نہیں دیا جاتا تھا بلکہ اُن کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
(4)دِین اِسلام وہ واحد دِین ہے جس نے یتیم ومساکین اور عورتوں کے ایسے حقوق بیان فرمائے جس سے اِن تمام لوگوں کو اپنی عزت وعظمت کا احساس ہوا۔
(5)اسلام وہ پیارا دِین ہے جس نے فقط عورت کے حقوق کو بھی کئی جہات سے بیان فرمایا، ماں کے الگ حقوق بیان فرمائے، بیٹی، زوجہ، بہن وغیرہ خواتین کے الگ حقوق بیان فرمائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام لوگوں کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اَحکامِ شرعیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 271 کمزور وں کے سبب مدد ورِزق
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِيْ وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : رَاَى سَعْدٌ اَنَّ لَهُ فَضْلاً عَلٰى مَنْ دُونَهُ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ اِلَّابِضُعَفَائِكُمْ.([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا مُصْعَب بن سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دِل میں خیال آیا کہ شاید اُنہیں کمزور لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔ تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی اور تمہیں رِزق دیا جاتا ہے۔ ‘‘
رب تعالیٰ کی نعمتیں ملنے کا ذریعہ:
مرقاۃ المفاتیح میں ہے کہ حضرت سَیِّدُناسعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دل میں خیال آیا کہ میں شجاعت اور سخاوت وغیرہ میں افضل ہوں (آپ نے منہ سے کچھ نہ کہا تھا اور آپ کا یہ خیال بھی یقیناً شکر کے طور پر ہوگا نہ کہ فخر کی بنا پر ، مگر) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسروں سے ارشاد فرما کر انہیں جواب دے دیا کہ : ’’اے لوگو!دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری جو مدد کی جاتی ہے اور مالِ غنیمت وغیرہ کی صورت میں تمہیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ ان غریبوں اور فقیروں کی برکت سے دیا جاتا ہے جو تمہارے درمیان موجود ہیں ، لہذا تم اِن کی تعظیم کیا کرو اور اُن پر فخر و بڑائی کا اظہار نہ کیا کرو۔ ‘‘([2])
کمزوروں کی برکت سے نعمتیں ملنے کا سبب:
حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس اُمّت کی مدد اِس کے کمزور اور بے بس لوگوں کی دعا ، اِن کی نماز اور اِخلاص کی وجہ سے فرماتا ہے۔ ‘‘([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع