30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے ، بیٹیوں کی عزت وعظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، اَحکامِ شرعیہ کو سمجھ کر اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
’’راہ نجات‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)بلا حاجت شرعی اپنی ذات کے لیے سوال کرنا منع ہے البتہ حاجت ہوتو جائز ہے۔
(2)اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا صدقہ دینے پر بہت حریص تھیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک ہی کھجور تھی ، آپ نے اُسے بھی صدقہ کر دیا۔
(3)صدقہ دینے کے لیے مال کا زیادہ ہونا ضروری نہیں بلکہ تھوڑے مال سے بھی صدقہ کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ بارگاہ ِالٰہی میں صدقہ کی مقدار نہیں بلکہ بندے کا اِخلاص دیکھا جاتا ہے۔
(4)تکبر ، ریاکاری اور اِحسان جتانے کا اندیشہ نہ ہو تو نیکی کا اِظہار کرنا جائز ہے ۔
(5)بیٹیوں پر خرچ کرنا ، اُن کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑی نیکی اور افضل عمل ہے اور یہ عمل جہنم سے نجات کا بھی سبب ہے ۔
(6)اولاد عطا کرنا رب تعالیٰ کے قبضہ واختیار میں ہے وہ جسے چاہے بیٹا عطا کرے اور جسے چاہے بیٹی۔
(7)بیٹی کی پیدا ئش پر شرم و عار محسوس کرنا کفار و مشرکین کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیٹیوں کی عزت وعظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اُن کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، بیٹیوں کی پیدائش پرغم نہیں بلکہ خوشی کا اِظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 269 نارِجہنم سے آزادی کا ذریعہ
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِيْ مِسْكِيْنَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَاَطْعَمْتُهَا ثَلاثَ تَمرَاتٍ فَاَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعتْ اِلٰى فِيهَا تَمْرَةً لِتَاْكُلَهَا فَاسْتَطعَمَتْهَا اِبْنَتَاهَا فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِيْ كَانَتْ تُريدُ اَنْ تَاْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَاَعْجَبَنِي شَاْنُهَا فَذَكَرْتُ الَّذِيْ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّ اللهَ قَدْ اَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ اَوْ اَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ.([1])
ترجمہ : اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھائے ہوئے آئی تو میں نے اسے کھانے کے لئے تین کھجوریں دیں ، اس نے دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے ابھی اپنے منہ تک لائی تھی کہ اسے بھی دونوں بیٹیوں نے مانگ لیا ، اس عورت نے وہ کھجور بھی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دی جسے خود کھانے کا ارادہ کیا تھا۔ مجھے اس کے معاملے پر بڑا تعجب ہوا ، پھر میں نے اس کا یہ عمل رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لئے اس عمل کی برکت سے جنت کو واجب کر دیا۔ ‘‘یا (یہ ارشاد فرمایا : )’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اُسے اِس عمل کی بنا پر جہنم سے آزاد کر دیا۔ ‘‘
اِس حدیث پاک میں اِس بات کابیان ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اس عورت کو تین کھجوریں دیں جبکہ اِس سے پہلی والی حدیث میں یہ تھا کہ ایک کھجور دی۔ علامہ بدرُ الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے اِن دونوں میں یوں مطابقت بیان فرمائی ہے : ’’ممکن ہے کہ دونوں احادیث میں بیان کیا گیا واقعہ ایک ہی ہو اور پہلے اُمُّ المومنین سَیِدتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک کھجورتھی جو آپ نے اس خاتون کو دے دی اور بعد میں مزید دو کھجوریں آ گئیں تو وہ بھی اسے دے دیں اس لئے یہ احادیث ایک دوسرے کے خلاف نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں احادیث میں جدا جدا واقعات بیان کیے گئے ہوں۔‘‘([2])
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ماں اپنی اولاد پر بڑی شفیق اور مہربان ہوتی ہے ، انہیں تکلیف میں دیکھ کر تڑپ جاتی اور ان کی تکلیف دور کرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہے ، خود تکلیف برداشت کر کے بچوں کو راحت دیتی اوراپنی بھوک کو بھول کر بچوں کی بھوک مٹانے کو ترجیح دیتی ہے ۔ اولاد اگرچہ ساری زندگی ماں کو ستاتی رہے ، دکھ درد اور اذیتیں پہنچاتی رہے لیکن ماں انہیں تکلیف میں دیکھ کر سب بھول جاتی ہے۔
’’والدہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع