30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھنسی ہوں گی اس لیے اسے سوال درست تھا۔ ‘‘([1])
صدقہ کریں خواہ قلیل ہو یا کثیر:
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک کھجور موجود تھی آپ نے وہ ہی صدقہ کر دی ۔فتح الباری میں ہے:’’اِس سے ثابت ہوا کہ تھوڑی چیز ہونے کی صورت میں صدقہ دینے سے رُک نہیں جانا چاہیے بلکہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ جو چیزمیسر ہو اسے صدقہ کر دے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔‘‘([2])
یاد رہے کہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں صدقے کی مقدار نہیں دیکھی جاتی بلکہ مؤمن کا اِخلاص دیکھا جاتا ہے اور جو مؤمن اِخلاص کے ساتھ کم یا زیادہ جتنا بھی صدقہ کرتا ہے رب تعالیٰ اُسے مزید بڑھاتا ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵) (پ۳ ، البقرہ : ۲۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اُسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر کوئی مسلمان راہِ خدا میں زیادہ مال خرچ کرتا ہے تو اس پر ریاکاری کا الزام نہ لگایا جائے اورجو مسلمان تھوڑا سا مال صدقہ و خیرات کرے تو اِس پر اُسے بھی ملامت نہ کی جائے کہ یہ انتہائی مذموم اَفعال ہیں اور اِن پر بڑی سخت وعید ہے ، چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْؕ-سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ٘-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۹)
(پ۱۰ ، التوبہ : ۷۹)
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ واقعہ حضور نبی رَحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے بیان کیا، اِس سے معلوم ہو اکہ نیکی کا اِظہار کرنا جائز ہے جبکہ فخر و تکبر ، ریاکاری اور اِحسان جتانے کے طور پر نہ ہو۔ صدقہ دے کر اِحسان نہ جتانا باعث اَجر ہے چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) (پ۳ ، البقرۃ : ۲۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر د یے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ(اجروثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
صدقہ دے کر اِحسان جتانا صدقے کا ثواب باطل کر دیتا ہے ، چنانچہ اِرشادِباری تعالیٰ ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴) (پ۳ ، البقرہ : ۲۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر دیکھا جائےتو ہمارے معاشرے میں صدقہ دے کر جتانے کی بیماری بہت عام ہے ، دوبارہ صدقہ دیتےہوئے پہلے صدقے کو یاد کروایا جاتا ہے کہ پچھلی دفعہ بھی میں نے اتنی رقم صدقہ کی تھی بلکہ بعض بے وقوف لوگ تو جسے صدقہ دیتے ہیں دوبارہ اس کا احتساب وغیرہ بھی جاری رکھتےہیں اور اس سےپوچھ گچھ کرتے رہتے ہیں کہ میرے دی ہوئی رقم کو کہاں خرچ کررہے ہو؟وغیرہ وغیرہ یقیناً بلاوجہ شرعی صدقہ دے کر جتانا حُبِّ مَدْح جیسی موذی بیماری کی طرف اشارہ کرتا ہے ، اپنےکسی کام پر لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کو پسند کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں کام پر لوگ میری تعریف کریں ، یہ حب مدح کہلاتا ہے۔ حب مدح صدقہ توکیا تمام نیکیوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس باطنی بیماری سے ہردم خبردار رہا کرتے تھے اور کسی بھی طرح اسے اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے تھے ، ہمیں بھی چاہیے کہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کےلیے صدقہ وخیرات کریں اور حب مدح سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ نیک اَعمال کریں۔ حب مدح جیسی موذی بیماری کے اسباب وعلاج اور دیگر تفصیل کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع