دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

حدیث نمبر : 267              دوبیٹیوں کی پرورش کرنے کی جزا

وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ  عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  مَنْ عَالَ  جَارِيَتَيْن حَتّٰی تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ وضَمَّ اَصَابِعَهُ.([1])

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دو بیٹیوں کی پرورش کرےیہاں تک کہ  وہ جوان ہو جائیں تو میں اور وہ شخص قیامت کے دن اِس طرح آئیں گے ۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔

بیٹیوں کی پرورش کے فضائل:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ دو بیٹیوں کی پرورش کرنے والے  کوقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کااتناقُرب نصیب ہو گا جیسے دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں۔ بیٹیوں کی پرورش سے متعلق  دوفرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :

(1) ’’جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی ، اُنہیں ادب سکھایا ، اُن کی شادی کروائی اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کیا تو اُس کے لئے جنت ہے۔ ‘‘([2])

(2)’’جو تین بیٹیوں یا اُن کی مثل(یعنی تین) بہنوں کی پرورش کرے کہ انہیں ادب سکھائے اور اُن پر مہربانی کرے  یہاں تک کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں (اِس سے)بے نیاز کردے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کے لیے جنت واجب کردے گا۔ ‘‘یہ سن کر ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اور دو کی۔ ‘‘(یعنی دو کی پرورش کرنے والے کے لئے بھی یہی اجر ہے؟)ارشاد فرمایا : ’’دو کی پرورش کرنے پر بھی یہی اجر ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں : ) حتی کہ اگر لوگ یوں کہتے : ’’یا ایک کی؟‘‘تو بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہی ارشادفرما تےکہ : ’’ایک کی پرورش پر بھی یہی اجر ہے۔ ‘‘([3])

مدنی گلدستہ

’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول

   (1)دو بیٹیوں کی پرورش کرنے والے کو بھی قیامت کے دن محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا انتہائی قرب نصیب ہو گا۔

   (2)بیٹیوں اور بہنوں کی پرورش کرنا ، انہیں ادب سکھانا ، ان پر مہربانی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا جنت پانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

   (3)تین بیٹیوں اور اور بہنوں کی پرورش پر ہی یہ اجر ملنا موقوف نہیں  بلکہ دو یا ایک  کی پرورش کرنے  پر بھی یہی اجر مل سکتا ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 268                                                       جہنم کی آگ سے آڑ

          وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ :  دَخَلَتْ عَلَيَّ اِمْرَاَةٌ وَمَعَهَا اِبْنَتَانِ لَهَا تَسْاَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِيْ شَيْئاً غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَاَعْطَيْتُهَا اِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَاْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  عَلَيْنَا فَاَخْبَرْتُهُ فَقَالَ :  مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَاَحْسَنَ اِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ. ([4])

ترجمہ : اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میرے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں ، اس نے کچھ مانگا  تو میرے پاس  ایک کھجور کے سوا کچھ  نہ تھا ، میں نے اُسے و ہی دے دی تو اُس نےاُسےاپنی بیٹیوں میں بانٹ دیا اورخود اُس میں سے کچھ نہ کھایا ، پھرکھڑی ہوئی اور چلی گئی۔ بعد ازاں حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اِس واقعے کی خبر دی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے اِن بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کیا جائے ، پھروہ اُن سے اچھا سلوک کرے تو وہ اُس کے لیے جہنم  کی آگ سے آڑ ہوجائیں گی ۔ ‘‘

محتاج کا سوال کرنا جائزہے:

اس حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ محتاج کا سوال کرنا جائز ہے۔ یاد رہے کہ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں بندے کا اپنی ذات کے  لئے سوال کرنا جائز ہے  اور حدیث پاک میں  جس خاتون کا واقعہ بیان کیا گیا یہ بھی کسی ایسی ہی مجبوری میں گرفتار ہوں  گی جس کی وجہ سے انہیں شرعی طور پر سوال کرنے کی رخصت تھی  لہٰذا ان کا سوال کرنا درست تھاجیسا کہ مُفَسِّرِ شَھِیر ،  مُحَدِّثِ کبیر حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’بعض مجبوریوں میں مانگنا جائز ہے ، یہ بی بی صاحبہ انہیں مجبوریوں میں



[1]    مسلم  ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب  فضل الاحسان إلى البنات ، ص۱۴۱۵ ،  حدیث : ۲۶۳۱۔

[2]   ابو داود  ، کتاب الادب ، باب فی فضل من عال یتیما  ، ۴  / ۴۳۵ ، حدیث۵۱۴۷۔

[3]   شرح السنۃ ، کتاب الادب ، باب ثواب کافل الیتیم ،  ۶ / ۴۵۲ ،  حدیث : ۳۳۵۱۔

[4]   بخاری ، کتاب الزکاۃ ، باب اتقوا النار۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۴۷۸  ، حدیث : ۱۴۱۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن