دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

برائی کو ختم کرنے پر قدرت حاصل ہوگی تو ضروراس گناہ کو ختم کروں گا۔ کیونکہ گناہ سے نفرت کرنا واجب ہے اور گناہ پر رضا مندرہنا ایسا ہے جیسے گناہ کرنے والے کے ساتھ گناہ میں شریک ہونا ۔ نیز اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دل میں  برائی کے لئے نفرت نہ ہونا  دل سے ایمان نکل جانے کی دلیل ہے۔ (کیونکہ برائی کو فقط دل میں برا جاننا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے ، تو دل میں نفرت نہ ہونا ایمان نکل جانے کی دلیل ہوئی۔ )حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ہلاک ہوگیا وہ شخص  جو اپنے دل میں نیکی اور بُرائی کی معرفت نہیں رکھتا۔ ‘‘([1])

نیکی کی دعوت ترک کرنے کی صورت:

علامہ ابوبکر بن علی رازی جَصَّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جب کوئی بُرائی کو ہاتھ اور زبان سے مِٹا نہ سکے تو اُس وقت اُس پر لازم ہے کہ اُس بُرائی کو دل میں بُراجانےاور اب اُس کے لیے خاموشی اختیار کرنا جائز ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :

عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-                      (پ۷ ، المائد : ۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان : تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیرمیں حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب تک تمہاری بات کو قبول کیاجائےتم نیکی کا حکم دو اور بُرائی سے منع کرو اور جب تمہاری بات کو قبول نہ کیا جائے تو تم اپنی جان کی فکر کرو۔ ‘‘اسی طرح حضرتِ سَیِّدُناابوثَعْلَبہ خُشَنِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بیان کیا ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’نیکی کا حکم دیتے رہواور برائی سے منع کرتے رہوحتی کہ جب تم دیکھوکہ بخل کی اطاعت کی جارہی ہے ، خواہش کی پیروی کی جارہی ہے ، دنیا کو ترجیح دی جارہی ہےاور ہرشخص اپنی رائے پر اتر رہا ہےتو پھر تم اپنی جان کی فکر کرواور لوگوں کی فکر کرناچھوڑ دو۔ ‘‘ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ امربالمعروف ونہی عن المنکر کو قبول نہ کریں اور اپنی خواہشات وآراء کی اتباع کریں تو پھر تمہارےلیے اُن کو چھوڑ نے کی گنجائش ہےاور تم اپنی فکر کرواور لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دواور اس صورت میں تمہارے لیے بالقول نہی عن المنکر کو تر ک کرنامباح ہے۔ ‘‘([2])

صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبہارِشریعت میں فرماتے ہیں : ’’امر بالمعروف کی کئی صورتیں ہیں : (1) اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بُری بات سے باز آئیں گے ، تو امر بالمعروف واجب ہے اس کا باز رہنا جائز نہیں اور (2)اگرگمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا افضل ہے اور(3) اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کرسکے گا یا اس کی وجہ سے فتنہ وفساد پیدا ہوگا ، آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی جب بھی چھوڑنا افضل ہے اور(4)اگرمعلوم ہے کہ وہ اگر اسے ماریں گے تو صبر کرلے گا تو ان لوگوں کو برے کام سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے اور(5) اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے اور نہ گالیاں دیں گے تو اسے اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ امر کرے۔ ‘‘([3])

اپنے منصب کے مطابق نیکی کی دعوت دو:

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ بُرائی کو بدلنے کے لیے ہر طبقے کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔ اربابِ اقتدار ، اساتذہ ، والدین وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں وہ قانون پر سختی سے عمل کراکے اور مخالفت کی صورت میں سزا دے کر برائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ مبلغین اسلام ، علماء و مشائخ ، ادیب و صحافی اور دیگر ذرائع اَبلاغ مثلًا ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شُعَراء اپنی نظموں کے ذریعے بُرائی کا قلع قمع کریں اور نیکی کوفروغ دیں۔ بلسانہ (زبان سے روکنے)کے تحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں۔ اور عام مسلمان جسے اقتدار کی کوئی صورت بھی حاصل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذریعے برائی کا خاتمہ کرسکتا ہے وہ دل سے اس برائی کو برا سمجھے ، اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے۔ کیونکہ کوشش کرکے زبان سے روکنا چاہیے لیکن دل سے جب برا سمجھے گا تو یقیناً  خود برائی کے قریب نہیں جائے گا اور اس طرح معاشرے کے بے شمار افراد خودبخود راہ راست پرآجائیں گے۔ حدیث شریف سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو آدمی برائی کو دل سے بھی برا نہ جانے اسے اپنے آپ کو مؤمنین میں شمارکرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ دل سے برا سمجھنے میں تو کسی کا ڈر نہیں ، پھر بھی برا نہیں سمجھتا  تو معلوم ہوا وہ اس پر راضی ہے۔ ‘‘([4])

بُرائی سے منع نہ کرنے پر دو وعیدیں:

(1)حضرتِ سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم!جس کے



[1]   دلیل الفالحین ،  باب فی الامربالمعروف ، ۱ /  ۴۶۸ ،  تحت الحدیث : ۱۸۵ملتقطاً۔

[2]   احکام القران للجصاص ، سورۃ ال عمران  ، باب فرض الامربالمعروف ونھی عن المنکر ، ۲ / ۴۱ ۔

[3]   بہارشریعت ، حصہ۱۶ ، ۳ / ۶۱۵۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۰۳مکتبہ اسلامیہ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن