30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاد کرنے والے غازی کے ثواب کی طرح ہےیا جس قسم کا اور جتنا ثواب اُس محنتی عبادت گزار کو ملتا ہے جو(ممنوع ایام کے علاوہ)ہمیشہ روزہ رکھتا اور ساری ساری رات نوافل پڑھتا ہواس قسم کا اور اتنا ثواب اس خدمت کرنے والے کو ملتا ہے۔ ‘‘([1])
حضرت سَیِّدُنا علی بن خلف قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’جو شخص راہِ خدا میں جہاد کرنے ، ساری رات نوافل پڑھنے اور ہمیشہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو تو اُسے اِس حدیث پاک پر عمل کرتے ہوئے بنا شوہر والی عورت اور مسکین کے (اخراجات اور ضروریات پوری کرنے کے) لئے کوشش کرنی چاہیے تاکہ قیامت کے دِن اُس کا حشر روزہ داروں اور عبادت گزاروں کے گروہ میں ہو اور دن میں کھاتے ، رات میں سوتے رہنے کے باوجوداُن کا درجہ پا لے اور(عمومی طور پر)ہر مومن کو چاہیے کہ خسارے سے خالی اِس تجارت پر حریص ہو جائے اور رضائے الٰہی کی خاطر بنا شوہر والی عورت اور مسکین کے لئے کوشش کرکے کسی قسم کی تھکاوٹ اور مشقت اٹھائے بغیر روزے داروں اور عبادت گزاروں کا درجہ پا کر اپنی تجارت کا نفع حاصل کر لے اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہے عطا کر دے۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ بنا شوہر والی عورت اگر غیر محرم ہوتو اُس کے اَخراجات اور ضروریات کا انتظام کرنے والے کو پردہ کرنا ضروری ہے ، اسی طرح بلااجازتِ شرعی تنہائی سے بھی بچنا ہوگا۔ اِس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے گھر کی کسی محرم عورت کے ذریعے اس عورت کی مدد کرے ، نیز اس بات کابھی خیال رکھنا ہوگا کہ اس طرح کرنے سے کسی بھی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو ، بصورت دیگر اُس پر لازم ہے کہ وہ اُس مستحب کام کو چھوڑدے ، ایسا نہ ہو کہ مستحب کام کرنے کی وجہ سے حرام کام میں جاپڑے اور ثواب کے بجائے عذابِ جہنم کا حق دار ہوجائے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
’’رحمٰن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اِسلام اپنے ماننے والوں کو غرباء ومساکین اور نادار لوگوں کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے۔
(2)بنا شوہر والی عورت اور مسکین کی ضروریات کا انتظام کرنے والے کا ثواب مجاہد اور عبادت گزار آدمی کے ثواب جیسا ہے۔
(3)کمزور وناتواں لوگوں کی مدد کرنا آخرت کی ایسی تجارت ہے جس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔
(4)مستحب پر عمل کرتے ہوئے حرام میں پڑ جانے کا خطرہ ہو تواُس مستحب پر عمل کرنا منع ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غُرَباء ومَسَاکین اورنادار لوگوں کی مدد کرنے اور اُس پر ملنے والے عظیم اجروثواب کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں فرائض ووجبات کی ادائیگی کرنے اور حرام کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 266 ولیمے کا بد ترین کھانا
وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَاْتِيهَا وَيُدْعَى اِلَيْهَا مَنْ يَاْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ. ([3])
وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ مِنْ قَوْلِهٖ : بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُدْعٰى اِلَيْهَا الْاَغْنِيَاءُوَ يُتْرَكُ الْفُقَراءُ. ([4])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سیِّد عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’بد ترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس میں(شرکت کرنےسے) اُسے روک دیا جائے جو آنا چاہتا ہے اور اُسے بلا لیا جائے جو نہیں آنا چاہتا اور جس نے(کسی سبب اور عذر کے بغیر) دعوت کو قبول نہیں کیاتو اُس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی ۔ ‘‘
بخاری اورمسلم کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۸ / ۶۸۳۔
[2] شرح ابن بطال ، کتاب الادب ، باب الساعی علی الارملۃ والمسکین ، ۹ / ۲۱۸
[3] مسلم ، کتاب النکاح ، باب الامر باجابة الداعي الى دعوة ، ص۷۵۰ ، حدیث : ۱۴۳۲۔
[4] بخاری ، کتاب النکاح ، باب من ترك الدعوة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۴۵۵ ، حدیث : ۵۱۷۷۔
مسلم ، کتاب النکاح ، باب الأمر بإجابة الداعي إلى دعوة ، ص۷۴۹ ، حدیث : ۱۴۳۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع