دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

ترجمہ : حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسکین وہ نہیں جسے  ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ غریب شخص ہےجو سوال کرنے سے بچتا ہے۔ ‘‘

بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا رہے اور وہ اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے دے کر لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جوا ُسے بے نیاز کر دے اور اُسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اُس پر صدقہ کیا جائے اور نہ ہی وہ اِس لئے کھڑا ہوتا  ہو کہ لوگوں سے سوال کرے۔ ‘‘

کامل مسکین کی پہچان:

مذکورہ بالا دونوں اَحادیث میں کامل مسکین کی پہچان اور علامت بیان کی گئی ہے ۔ پہلی حدیث  پاک کا خلاصہ  یہ ہے کہ کامل مسکین وہ نہیں  جو لوگوں سے سوال کرے تو وہ اسے پیٹ میں ڈالنے کے لئے  تھوڑی سی  غذا اور ستر چھپانے کے لئے کچھ لباس دے دیں  بلکہ کامل مسکین  وہ  غریب شخص ہے  جو لوگوں سے سوال نہ کرے اور لوگ (اُس کے اَحوال سے)اُسے پہچانتے نہ ہوں تاکہ (اُس کی فقیرانہ حالت دیکھ کر)اُس پر صدقہ کریں۔ ([1])

دوسری حدیث پاک کا خلاصہ یہ ہے کہ کامل مسکین وہ نہیں جو لوگوں کےپاس اِس لئے چکر لگائے تاکہ انہیں اپنے اوپر صدقہ کرنے کا کہے اور لوگ اسے لقمہ دو لقمہ  یا ایک دو کھجور دے کر واپس لوٹا دیں  بلکہ کامل مسکین وہ شخص ہے  جو اپنے پاس ایسی  چیز نہ پائے  جس سے اُس کی حاجت پوری ہو اور نہ ہی اُس کا حال دیکھ کر اسے پہچان لیا جائے ( کہ یہ مسکین ہے )تاکہ لوگ ا س پر صدقہ کریں اور نہ ہی وہ لوگوں سے مانگنے کے لئے کھڑا ہو۔ ([2])

کس مسکین کو سوال کرنا حلال ہے؟

واضح رہے کہ جو شخص واقعی مسکین ہے اسے اپنی ذات کے لیے سوال کرنا جائز ہے  لیکن اُس کے لئے بھی اَحسن اور اَولیٰ یہی ہے کہ سوال نہ کرے  جیساکہ  مذکورہ  حدیث پاک میں کامل مسکین کا حال بیان ہوا ، البتہ جو بناوٹی مسکین ہیں انہیں سوال کرنا اور اُن کے سوال پر کچھ دےدینا جائزنہیں ۔ صدرُالشریعہ ، بدرُ الطریقہ  مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اَوروں کو کھلائیں مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے ، کون محنت کرے؟مصیبت جھیلے ، بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے؟ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اوربہت سے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری ، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لئے بے عزتی و بے غیرتی ہے ، مایۂ عزت جانتے ہیں اور بہت ساروں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے ، گھر میں ہزاروں روپے ہیں ، سود کا لین دین کرتے ، زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے ، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے ، واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں؟ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو ، اُسے جائز نہیں کہ اُن کو دے۔ ‘‘([3])

صدقات کے عُمدہ مَصارِف:

مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہو اکہ  صدقات کے بہترین اور عمدہ مَصرف  ایسے مسکین لوگ ہیں  جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے حال سے مسکینی ظاہر نہیں ہونے دیتے  اورایسے سفید پوش ہیں  کہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی  لوگوں کے سامنے ہاتھ  نہیں پھیلاتے ۔ قرآنِ مجید میں بھی ایسے لوگوں پر صدقہ کرنے  کی ترغیب دی گئی ہے ، چنانچہ صدقہ کرنے کی ترغیب دینے کے بعد اس کا (بہترین) مَصرف بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ٘-یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ-تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْۚ-لَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ-  (پ۳ ، البقرہ : ۲۷۳)           

ترجمۂ کنزالایمان : ان فقیروں کے لئے جو راہ خدا میں روکے گئے زمین میں چل نہیں سکتے  نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب   تُو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا   لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے۔

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ524 صفحات پر مشتمل کتاب ’’صراطُ الجنان فی تفسیر القرآن‘‘جلداول کے صفحہ 409پر ہے : ’’انہی حضرات کی صف میں وہ مشائخ و علماء و طلبہ و مبلغین و خادمین دِین داخل ہیں جو دِینی کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے کمانے کی فرصت نہیں پاتے۔ یہ لوگ اپنی عزت و وقار اور مُرُوَّت کی وجہ سے لوگوں سے سوال بھی نہیں کرپاتے اور اپنے فَقر کو چھپانے کی بھی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ اِن کا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن حقیقت ِ حال اِس کے برعکس ہوتی ہے۔ اگر کچھ غور سے دیکھا جائے تو اِن لوگوں کی زندگی کا مشقت سے بھرپور ہونا بہت سی علامات و قرائن سے معلوم ہوجائے گا۔ اِن کے مزاج میں تواضع اور اِنکسا ری ہوگی ،



[1]   عمدۃ القاری ، کتاب الاذان ، باب  إذا ركع دون الصف ، ۴ / ۵۰۹۔

[2]   ارشاد الساری ، کتاب الزکاۃ ،  باب قول اللہ تعالٰیٰ : لا یسألون الناس الحافا ، ۳ / ۶۹۳ ،  تحت الحديث : ۱۴۷۹۔

[3]   بہار شریعت ، حصہ پنجم ، ۱ / ۹۴۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن