30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
‘‘دوسری روایت میں ہے : ’’یہ مونڈ دینے والی چیز ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈ دیتی ہے بلکہ وہ دِین کو مونڈ(یعنی خراب کر)دیتی ہے۔ ‘‘([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیث پاک کو پڑھنےکے بعد اگر ہم اپنےآپ پر غور کریں تو یہ بات بالکل ظاہر ہوجائےگی کہ واقعی ہم میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو خوامخواہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں سے تعلقات خراب کیے ہوئےہیں اور تعلقات کی خرابی کا باعث کوئی شرعی قباحت نہیں بلکہ عموماً کوئی نہ کوئی دُنیوی معاملہ ہوتا ہے ، کاش ہم بھی مذکورہ اَحادیث پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اپنے مسلمان بھائیوں سے تعلقات توڑنے والے نہیں بلکہ جوڑنے والے بن جائیں ، اُن کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو محسوس کرنے کے بجائے عفو ودرگزر سے کام لینے والے بن جائیں ، اپنے مسلمان بھائی کے کلام کو جہاں تک ممکن ہو اچھے معنی پر محمول کرنے والے بن جائیں ، بدگمانی کے بجائے حسن ظن کو اپنالیں ، اگر ہم اِن مدنی پھولوں پر عمل کرنے والے بن گئے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کی برکت سے ایک بہترین اور پرامن معاشرہ قائم ہوگا۔
خواجہ ’’غریب نواز ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)اسلام وہ پیارا مذہب ہے جس میں غریبوں اور مسکینوں کو بہت اہمیت وفضیلت دی گئی ہے۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا و خوشنودی مسکینوں،غریبوں اور خاص طور پر مسکین صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی رضا وخوشنودی میں ہے اور اُن کی ناراضی اِن حضرات کی ناراضی میں ہے۔
(3)نیک لوگوں کو اذیت دینے اور ناراض کرنے والی باتوں سے بچنا چاہیے اور اُن کا احترام کرنا چاہیے۔
(4)اپنے مسلمان بھائی کے کلام کو جہاں تک ممکن ہو اچھے معنی پر محمول کرنا چاہیے، بلا وجہ شرعی اس کے کلام کو برے معنیٰ پر محمول کرنا اور اس پر فساد برپا کرنا یا لڑائی جھگڑا کرنا مسلمان کی شان نہیں۔
(5)بدگمانی میں کوئی خیر نہیں، اپنے مسلمان بھائی اوراس کے کلام کے متعلق حسن ظن ہی رکھنا چاہیے۔
(6)دنیاکی رنجشیں دور کرنے میں جلدی کرنی چاہیے اور جس سے کوئی شکایت ہو اس سے براہِ راست مل کر اپنے معاملات کو شرعی طریقے کے مطابق حل کرلینا چاہیے۔
(7)باہمی تعلقات کا بگاڑ وباہمی دشمنی یہ دونوں دِین کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔
(8)کسی دُنیوی معاملے کی وجہ سے آپس کے تعلقات کو خراب کرنا بے وقوفی ہے جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرتے ہوئے آپس کے تعلقات کو بنائے رکھنا نہایت ہی سمجھداری کا کام ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غریبوں مسکینوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی دل آزاری سے بچائے ، ہمیں بدگمانی سے بچنے اور حسن ظن رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 262 یتیم کی کَفالت کرنے کا اجر
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَنَا وَكَافلُ اليَتِيْمِ في الجَنَّةِ هٰكَذا وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا.([2])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حُسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیااور اُن کے درمیان کچھ کشادگی فرمائی۔
یتیم اس نابالغ بچے یا بچی کو کہتے ہیں جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہو اور یہ بچے امیر ہوں یا غریب دونوں صورتوں میں یتیم ہی شمار ہوں گے۔ جیسا کہ فقہِ حنفی کی کتاب “ تکملہ بحر الرائق “ میں ہے : ’’یتیم وہ نابالغ ہے جس کا والد فوت ہو چکا ہو ، خواہ وہ نابالغ مال دار ہو یا فقیر۔ ‘‘([3])
یتیم کی کفالت کرنے والا کون ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع