30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرآن کا احترام کرنا جو نہ تو اُس میں زیادتی کرے اور نہ اُس سے دور رہے اور عادِل بادشاہ کا احترام کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم میں سے ہے۔ ‘‘([1])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں نیک بندوں کا اِحترام اور اُن کی تعظیم و توقیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
معاشرے کا ناسوروفسادات کا بڑا سبب:
صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمتعلق حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کلام سن کر اُن کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا اور نہ ہی اُن پر کسی طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی بلکہ جب حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن کے پاس آ کر دریافت فرمایا تو انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ وہ اُن سے ناراض نہیں ہیں۔ اِس سےمعلوم ہو اکہ مسلمان بھائی جو کلام کرے اُس کے اچھے معنی مراد لئے جائیں اور خوامخواہ اُ س کے کلام کو بُرے معنی پر محمول کر کے رَنجش و ناراضی ، لڑائی جھگڑا اور فساد برپا نہیں کرنا چاہیے۔ افسوس!آج کل اپنے مسلمان بھائیوں کے کلام سے اچھا معنیٰ مراد لینے کے بجائے بُرے معنی مراد لینا ہمارے معاشرے کا ایک ناسور اور کئی طرح کے فسادات کا بڑا سبب بن چکا ہے اور اِس کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہی ہیں کہ کوئی گھر ، کوئی گلی ، کوئی محلہ ، کوئی علاقہ ، کوئی شہرایسا نہیں جہاں امن وامان کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہو بلکہ ایک مسلمان اپنےدوسرے مسلمان بھائی کےساتھ دست وگریباں ہے ، باپ بیٹے سے تو بیٹا باپ سے بدتمیزی کرتا ہے ، ماں بیٹی کی آپس میں تکرار جاری ہے ، گلی محلے اور شہروں کی سڑکوں پر عدم برداشت کےمظاہرے تو آئے دن ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں ، رشتہ داروں کی آپس میں ٹھنی ہوئی ہے ، پڑوسی ایک دوسرے سے نالاں ہیں ، دوست اَحباب کی باہمی دوستی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے پر تنقید برائے تنقید کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور بسا اَوقات یہ لڑائیاں ، جھگڑے اور فساد اِس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگ زندگی بھر ایک دوسرے کا منہ دیکھنا ، ایک دوسرے سے کلام کرنااورایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہونا گوارا نہیں کرتے ، کسی پر مصیبت آجائے تو خوشیاں مناتےاورموقع ملنے پر ایک دوسرے کو ذلیل و رُسوا کرتے نظر آتے ہیں اور اِن سب بُرائیوں کی بنیادی جڑ یہی ہے کہ ہم نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے کلام کو اچھے معنی پر محمول کرنے کے بجائے بُرے معنی لینا شروع کردیے ہیں ، حسن ظن کے بجائے بدگمانی کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کے متعلق بُرے گمان سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ سورہِ حجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶ ، الحجرات : ۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
مفسرِقرآن صدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اِسی آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’مومنِ صالح کے ساتھ بُرا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اُس کا کوئی کلام سن کر فاسِد معنیٰ مراد لینا باوجود یہ کہ اُس کے دوسرے صحیح معنیٰ موجود ہوں اور مسلمان کا حال اُن کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں داخل ہے۔ ‘‘([2])
دوسری آیت میں کافروں کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَا یَتَّبِـعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّاؕ-اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ(۳۶) (پ۱۱ ، یونس : ۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی وہ اپنے مسلمان بھائی کا کلام سنے تو جہاں تک ممکن ہو اس کو اچھے معنیٰ پر ہی محمول کرے جبکہ اُس میں اچھے معنیٰ پائےبھی جاتےہوں ، فقط اپنے سوچ کے مطابق بُرے معنی نکالنے سےبچے کہ بلا وجہِ شرعی بُرے معنی مراد لینے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
دنیا کی رنجشیں جلد ختم کر لینی چاہئیں:
مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دُنیوی رنجشیں بہت جلد دور کرلینی چاہئیں اورجس سے شکایت ہو اُس سے براہِ راست مل کر بات کرکے معاملے کو درست کرلینا چاہیے تاکہ آپس میں فساد اور باہمی تعلقات میں بگاڑ پیدا نہ ہو ، احادیث میں باقاعدہ ا س کی ترغیب بھی دی گئی ہے ، چنانچہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’باہمی عداوت سے بچو کیونکہ یہ مونڈ دینے(یعنی دین کو خراب و برباد کرنے دینے )والی چیز ہے۔ ‘‘([3])
حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کا درجہ روزے ، نماز اور زکوٰۃ سے زیادہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’کیوں نہیں ۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’آپس میں تعلقات کو خوشگوار رکھناکیونکہ باہمی تعلقات کا بگاڑ مونڈ دینے والی چیز ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع