30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(7) غریب لوگوں کے حقوق کو خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بیان فرمایا اور اُس کاخیال رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی غریبوں کا خیال رکھنے ، اُن کے حقوق کو اچھی طرح اَدا کرنے ، اُن کی دِل آزاری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 261 غریب و مِسکین کی ناراضی کا وَبال
وَعَنْ اَبِیْ هُبَيْرَةَ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ وَهُوَ مِنْ اَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اَبَا سُفْيَانَ اَتٰی عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبلاَلٍ في نَفَرٍ فَقَالُوْا : مَا اَخَذَتْ سُيُوفُ اللهِ مِنْ عَدُوِّ اللهِ مَاْخَذَهَا فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَتَقُوْلُوْنَ هٰذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَاَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرهُ فَقَالَ : يَا اَبَا بَكْرٍ! لَعَلَّكَ اَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ اَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ اَغْضَبْتَ رَبَّكَ فَاَتَاهُمْ فَقَالَ : يَا اِخْوَتَاهُ اَغْضَبْتُكُمْ قَالُوْا : لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا اُخَيَّ. ([1])
ترجمہ : حضر ت سَیِّدُنا ابو ہبیرہ عائذ بن عَمرو مُزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے جو اَصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں ، فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان ، حضرت صُہَیب اورحضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ چند لوگوں میں موجود تھے ، اُس وقت اُن کے پاس ابو سُفیان آئے تو اُن سب نے کہا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تلواریں اللہ عَزَّوَجَلَّکے دُشمن کی گردن میں اپنی جگہ سے نہیں گزریں۔ ‘‘یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ کیا تم قریش کے شیخ اور اُن کے سردار کےبارے میں اِس طرح کہتے ہو؟‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ کو خبر دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابوبکر! تم نے (یہ بات کہہ کر) شاید اُن حضرات کو ناراض کردیا ہے ، اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو تم نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کردیا۔ ‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کے پاس تشریف لائے اورفرمایا : ’’اے میرے بھائیو !لگتا ہے میں نے تمہیں ناراض کردیا؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’نہیں ، اے میرے پیارے بھائی!اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی بخشش فرمائے۔ ‘‘
حدیث پاک میں مذکور واقعے کا خلاصہ:
اِس حدیث پاک میں بیان کیے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد (اور فتح مکہ سے پہلے ) کفارِمکہ کے ایک بڑے سردار ابوسفیان (جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لےآئے تھے)مدینہ منورہ آئے ، وہاں ایک مقام پر حضرت سیدنا سلمان ، حضرت سیدنا صُہَیْب اورحضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ چند لوگوں کے درمیان موجود تھے ، اُن کے پاس ابو سفیان آئے تو اُن حضرات نے کہا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تلواریں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ سے نہیں گزریں۔ ‘‘اِس سے مراد یہ تھی کہ ہماری تلواروں نے ابھی تک ابو سفیان کی گردن نہیں کاٹی۔ یہ سن کر حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن سے فرمایا : ’’ کیا تم قریش کے ایک بڑے شخص اور اُن کے سردار کےبارے میں اِس طرح کے( سخت) الفاظ کہتے ہو؟‘‘پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرہوئےاور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِن حضرات نے ابوسفیان سے یہ کہا تھا اور میں نے انہیں یہ کہا ہے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابوبکر !تمہاری نیت بالکل درست ہے مگر اس میں ایک کافر کی حمایت اور مؤمنوں کی تادیب (یعنی سرزنش) کی مہک آرہی ہے ممکن ہے کہ اِس وجہ سے اِن کے دلوں کو صدمہ پہنچا ہو ، اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کردیا۔ ‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کے پاس آئے اورفرمایا : ’’اے میرے بھائیو !لگتا ہے میں نے تمہیں ناراض کردیا؟‘‘ توانہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا : ’’نہیں ، اے میرے بھائی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی بخشش فرمائے۔ ‘‘([2])
اِس حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ رب تعالیٰ کے نیک بندوں کا اِحترام کرنا چاہیے اور ایسی باتوں سے بچا جائے جو اُن کی ناراضی اور اذیت و تکلیف کا سبب بنیں کیونکہ جو شخص رب تعالیٰ کے اولیاء میں سے کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے اُس سے رب تعالیٰ بھی ناراض ہوجاتا ہے اور رب تعالیٰ کو ناراض کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کئی مقامات پر نیک لوگوں کے اِحترام کی تعلیم وترغیب دی ہے ، چنانچہ ایک مقام پراللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ- (پ۷ ، الانعام : ۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمّہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے۔
حضرت سَیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ بوڑھے مسلمان اوراُس حامل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع