30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدنا داود عَلَیْہِ السَّلَامکے زمانہ میں ہوا۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 184 بُرائی کو اپنی اِستِطَاعَت کے مطابق روکو
عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ رَاَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ. ([2])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ’’تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھےتو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دےاور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتاتوزبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل ہی میں بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ‘‘
’’بُرائی سے مراد ہروہ بات ہے جس کی شریعت نے مذمت بیان کی ہو ، اسے حرام ٹھہرایا ہو اور اسے ناپسند کیا ہو۔ برائی سے کبھی قول کے ذریعے منع کیا جاتا ہے جیسے شراب نوشی سے منع کرنا۔ کبھی صرف فعل کے ذریعے جیسے شراب کو بہا دینا۔ جب بُرائی سے قول کے ذریعے منع کیاجائے تواسے نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی برائی سے منع کرنا) کہتے ہیں اور جب فعل کے ذریعے منع کیا جائے تو اس کو تَغْیِیْرٌ لِلْمُنْکَر(یعنی برائی کو بدلنا) کہتے ہیں۔ ‘‘([3])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ تم میں سےجوبرائی دیکھےیعنی اسے کسی برائی کے بارے میں علم ہوجائے تو اُس برائی کو روکے ، کیونکہ نہی عن المنکر کے واجب ہونے کےلئےآنکھوں سے دیکھنا شرط نہیں بلکہ برائی سے منع کرنے کا دارومدار علم پر ہے۔ اب چاہے آنکھوں سےوہ برائی ہوتےہوئے دیکھے یانہ دیکھے۔ نیز حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد “ تم میں سے جو برا کام دیکھے۔ “ سے مراد مکلف اور قدرت رکھنے والے مسلمان ہیں اور عمومی طور پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ خطاب ساری اُمت کے لیے ہے ، حاضرین کےلئے بالمشافہ اور غائبین کے لیے بالتبع۔ ‘‘([4])
برائی کو ہاتھ سے روکنے کا طریقہ:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جو کوئی ایسا کام ہوتے ہوئے دیکھے جس سے شریعت نے منع کیا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے۔ اس طورپر کہ اس شخص کو اس فعل سے منع کرے ، اس گناہ کے آلات کو توڑ دے ، شراب وغیرہ کو بہا کر ضائع کردے اور اگر وہ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے مالک تک پہنچادے۔ ‘‘([5])
برائی کو زبان سےر وکنے کا طریقہ:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگر اپنی جان کو ضررپہنچنے یا مال چھن جانے کے خدشے کی وجہ سے برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سےاُسے روکے جس کے رک جانے کی امیدہو۔ روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے زور سے آواز دے ، ڈانٹ ڈپٹ کرے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف دلائے ، اس کے عذاب سے ڈرائے ، الغرض نرمی اورسختی میں سےجو مفید ہو اس پر عمل کرے۔ ‘‘([6])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’برائی کو زبان سے اس طرح روکے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس گناہ پر جو وعیدیں نازل فرمائی ہیں انہیں بیان کرے اور برائی کرنے والے کو اعمالِ بد کے نتائج سے باخبر کرے ، گناہوں کے انجام سے ڈرائے اور نصیحت کرے۔ ‘‘([7])
گناہ کو دل میں بُرا جاننے کا طریقہ:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دل میں بُرا جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے ناپسند کرے اور اس بات کا پختہ عزم کرےکہ جب کبھی ہاتھ یازبان سے اس
[1] تفسیر نعیمی ، پ۹ ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۱۶۵ ، ۹ / ۲۹۵۔
[2] مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان کون النھی عن المنکر۔ ۔ ۔ الخ ، ص۴۴ ، حدیث : ۴۹۔
[3] شعب الإیمان للصاغرجی ، ، باب الامر با المعروف و النھی عن المنکر ، ۴ / ۱۹۲۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۶۶ ، ۴۶۷ ، تحت الحدیث۱۸۵۔
[5] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الادب ، باب الامربالمعروف ، ۸ / ۸۶۱ ، تحت الحدیث : ۵۱۳۷۔
[6] دلیل الفالحین ، باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۶۷ ، تحت الحدیث۱۸۵۔
[7] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الادب ، باب الامربالمعروف ، ۸ / ۸۶۱ ، تحت الحدیث : ۵۱۳۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع