دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

وابستگی پیدا کرنے والے ہوں۔ ‘‘([1])(کیونکہ یہ آپ کی شان کے خلاف ہیں۔ )

مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اِس میں قیامت تک کے مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ غافلوں ، متکبروں ، ریاکاروں ، مال داروں کی نہ مانا کریں ، مُخلص صالح غُرباء ومَساکین مسلمانوں کی اِطاعت کیا کریں ، اِن مال داروں کی بات ماننا دِین ودنیا برباد کردیتا ہےاور اِن غُرباء کے ساتھ رہنا دونوں جہان درست کردیتا ہے ، اِسی لیے اکثر اَنبیاء اَولیاء غُرباء میں ہوئے۔ ([2])

(3)یتیم پر دباؤ ڈالنے اور سائل کو جھڑکنے کی ممانعت

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اِرشاد فرماتا ہے :

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ(۹) وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ(۱۰) فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ(۹) وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ(۱۰)

                                                                                                                      (پ۳۰ ، والضحی : ۹  ، ۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان : تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو اور منگتا کو نہ جھڑکو۔

      تفسیرِ خازن میں ہے : ’’دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ یتیم پر دباؤ ڈال کر ا س کا مال لے لیتے اور اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے اور مانگنے والوں کو جھڑکا کرتے  تھے ، چنانچہ اِن آیات میں رب تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ارشاد فرمایا کہ  آپ کسی صورت بھی یتیم پر سختی نہ فرمائیے گا اور جب آپ کے دَرِ دولت پر آ کر کوئی سوالی مانگےتو اُسے کسی بھی صورت جھڑکنا نہیں بلکہ اُسے کچھ دے دیں یا حسن اَخلاق اور نرمی کے ساتھ اُس کے سامنے نہ دینے کا عُذر بیان کر دیں۔ ‘‘([3])

اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجددِدِین وملت ، پروانہ شمع رِسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا  خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اسی آیت مبارکہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

مؤمن ہوں مؤمنوں پہ رؤف  رحیم ہو                              ……                                 سائل ہوں سائلوں کو خوشی لَانَھَر کی ہے

یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ مؤمن ہو اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مؤمنوں پر رؤف رحیم ہیں ، میں سائل ہوں اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ کے سائلوں کو نہ جھڑکے جانے کی خوشی کی ہے۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں :

مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے               ……                    سرکار میں نہ لَا ہے نہ حاجت اگر کی ہے

یعنی ہم تو حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درِاقدس سے مانگتے رہیں گے اور منہ مانگی مُرادیں پاتے رہیں گے کیونکہ وہ ایسی مُقَدَّس بارگاہ ہے جہاں ’’لَا‘‘ یعنی ’’نہیں ، منع کردینا‘‘ نہیں ہے ، اور نہ ہی اس بارگاہ میں ’’اگر‘‘ ہے کہ اگر ایسا کرو گے تو مل جائے گی۔ وغیرہ وغیرہ بلکہ وہ تو ایسی پیاری بارگاہ ہے جہاں سے جس وقت جوبھی مانگو بغیر کسی رُکاوٹ کے بلا حساب مل جاتا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّاور دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مالکیت اور شانِ عطا کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں                                  ……   دو جہاں کی نعمتیں ہیں اُن کے خالی ہاتھ میں

یعنی حضور رحمۃ اللعالمین ، شفیع المذنبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون ومکاں کے مالک کل ہیں ، مگر اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کیفیت یہ ہے کہ آپ کے بظاہرخالی ہاتھ میں دونوں جہاں یعنی دنیا وآخرت کی نعمتیں موجود ہیں۔ سرکارِ دوعالَم نورِمجسم شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سخاوت کو نہایت ہی پیارے انداز میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دَین تھی                                                ……   دُوری قبول و عَرض میں بس بھیک بھر کی ہے

یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے جیسے ہی منگتا نے مانگا تو فورا ًاُس کی جھولی مُراد سے بھردی گئی ، منگتا کے مانگنے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عطا فرمانے میں بس مانگنے کی دُوری تھی کہ اِدھر مانگا اور اُدھر عطا ہوگیا۔

(4) يتيم اورمسكين سے بد سلوکی کرنے والا شخص

   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ(۱) فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ(۲) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ(۳)  (پ۳۰ ، الماعون : ۱ ، ۳)

 



[1]   روح البیان ، پ۱۵ ،  الکھف ، تحت الآیۃ : ۲۸ ، ۵ / ۲۳۹۔

[2]   نورالعرفان ، پ۱۵ ، الکہف ، تحت الآیۃ : ۲۸۔

[3]   تفسیر خازن ،  پ۳۰ ،  والضحی ، تحت الآیۃ :  ۱۰  ، ۴ / ۴۱۶ملخصاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن