30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِطمینان نصیب ہوا۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی یتیموں ، بیٹیوں ، غریبوں ، مسکینوں ، بے بسوں کی دلجوئی کرنے ، ان کے ساتھ اِحسان اوراُن پر شفقت کرنے ، نیز اُن سے عاجزی اور اِنکساری کے ساتھ پیش آنے کے بارے میں ہے۔ علامہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں4 آیتیں اور13اَحادیث ذکر کے اِنہی اَفراد سے متعلق دِین اِسلام کی عظیم تعلیمات کو بیان کیا ہےجس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہےکہ کفار کے سامنے اِسلامی تعلیمات واضح ہوں اور مسلمانوں کو اِن تعلیمات پر عمل کی ترغیب ملے۔ پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1)مسلمانوں پر رحمتوشفقت کرنے کا حکم
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) (پ۱۴ ، الحجر : ۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور مسلمانوں کو اپنے رحمت کے پروں میں لے لو۔
مفسر ِقرآن علامہ احمد صاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی تفسیرِصاوی میں فرماتے ہیں : ’’یعنی (اے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!)آپ مسلمانوں کے لئے تواضع فرمائیں اور اُنہیں اپنی رحمت (کے پروں) میں اِس طرح لے لیں جیسے پرندہ اپنے بچوں پر رَحمت و شفقت کرتے ہوئے اُنہیں اپنے پروں میں لے لیتا ہے۔ ‘‘([1])
تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِس فرمانِ عالیشان کی تکمیل کے لیے اپنی اُمَّت پر کمال شفقت و رَحمت اور مہربانی فرمائی ، چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ۱۱ ، التوبۃ : ۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان : بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
حضرت سَیِدُنا اُبَی بِن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے ، میں نے دو بار (تو دنیا میں) عرض کر لی : ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری امت کی مغفرت فرما ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری امت کی مغفرت فرما۔ ‘‘اور تیسری عرض اُس دن کے لئے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ اِلٰہی میری طرف نیاز مند ہو گی یہاں تک کہ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خلیل) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی میرے نیاز مند ہوں گے۔ ([2])
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’اے گناہگارانِ اُمَّت!کیا تم نے اپنے مالک و مولیٰ کی یہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہِ اِلٰہی عَزَّ جَلَالُہُ سے تین سوال حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہو گا۔ حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے اُن میں کوئی سوال اپنی ذات پاک کے لئے نہ رکھا ، سب تمہارے ہی کام میں صَرف فرما دئیے ، دو سوال دنیا میں کئے وہ بھی تمہارے واسطے ، تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا ، وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب ا س مہربان مولا رؤف و رحیم آقا (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سوا کوئی کام آنے والا ، بگڑی بنانے والا نہ ہو گاوَاللہِ الْعَظِیمْ!قسم اس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا!ہر گز ہر گزکوئی ماں اپنے عزیزپیارے اکلوتےبیٹے پر زنہار(یعنی کبھی بھی)اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک اُمَّتی پر مہربان ہیں۔ ‘‘([3])
(2)غریبوں اورمسکینوں کےساتھ تعلق قائم رکھیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے :
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ-تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ- (پ۱۵ ، الکھف : ۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنی جان اُن سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اُس کی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگار(زینت)چاہو گے۔
اِس آیت کے ابتدائی حصے کی تفسیر اِس سے پہلے والے باب کے تحت گزر چکی ہے ، اُسے وہاں ملاحظہ فرمائیں اور یہاں آیت کے آخری حصے)تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ( کی تفسیر ملاحظہ ہو ، چنانچہ تفسیر رُوح البیان میں ہے : ’’رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حیاتِ دنیا کی زینت سے کوئی نسبت نہیں اور نہ ہی آپ کو اِس طرف توجہ تھی اور آیت کے اِس حصے کا معنیٰ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب!آپ ایسے عمل نہ کیجئے گاجو زینت دنیا کی طرف مائل ہوں ، فقراء سے رُو گردانی اور مال داروں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع