30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے اور وہ جواب میں کہتی تھی : ’’مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ ‘‘اس بچے کی ماں نے کہا : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنا۔ ‘‘اس بچے نے دودھ چھوڑا اور باندی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس جیسا بنا۔ ‘‘تب ماں بیٹے میں بحث ہوئی ، ماں نے کہا : ’’ایک اچھی حیثیت والا شخص گزرا اور میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میرے بیٹے کو بھی اس جیسا بنا دے ، تو تم نے کہا : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اِ س جیسا نہ بنانا اور ا س باندی کو لوگ مار رہے تھے اور ا س سے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے ، اس پر میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنا لیکن تو نے کہا کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس جیسا بنا دے(تم نے ایسی دعا کیوں کی؟)۔ ‘‘بچے نے جواب دیا : ’’وہ شخص ایک ظالم انسان تھااس لئے میں نے دعا کی کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس جیسانہ بنااور جس باندی سے یہ کہہ رہے کہ تو نے زنا کیا ہے ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی ، اس لئے میں نے دعا کی کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس جیسا بنا دے۔ ‘‘
مشکل الفاظ کے معانی : مُوْمِسَات : اس سے مراد زانیہ عورتیں ہیں ، مُوْمِسَہْ زانیہ عورت کو کہتے ہیں۔ دَابَّۃٌ فَارِہَۃٌ : پھرتیلا اور عمدہ سواری کا جانور۔ اَلشَّارَۃُ۔ لباس اور ہیئت میں ظاہر ہونے والا جمال۔ تَرَاجَعَا الْحَدِیْثَ : اس کا معنیٰ یہ ہے کہ عورت نے بچے سے بات کی اور بچے نے عورت سے بات کی ۔
والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک عظیم نیکی ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اُن کی خدمت کرناعظیم نیکی ہے اور اِس کی عظمت و اہمیت اور ضرورت کا اندازہ اِس آیت مبارکہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین سے بھلائی کرنے کا بھی حکم دیاہے ، چنانچہ ارشاد ہوتاہے :
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ- وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (پ۱ ، البقرۃ : ۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔
صدرُالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم فرمانے کےبعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنےکا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت بہت ضروری ہے۔ والدین کے ساتھ بھلائی کے یہ معنیٰ ہیں کہ ایسی کوئی بات نہ کہے جس سے انہیں ایذا ہو اور اپنے بدن ومال سے اُن کی خدمت میں دریغ نہ کرے جب انہیں ضرورت ہو اُن کے پاس حاضر ہو۔ مسئلہ : اگر والدین اپنی خدمت کے لئے نوافل چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑ دے ، اُن کی خدمت نفل سے مقدم ہے ۔ مسئلہ : واجبات والدین کے حکم سے ترک نہیں کیے جاسکتے۔ ‘‘([1])
حسن سلوک کا زیادہ حق دارکون ہے؟
حسن سلوک کی سب سے زیادہ حق دار ماں ہےجیسا کہ حضرت سَیّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیری ماں۔ ‘‘عرض کی : ’’پھر کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیری ماں۔ ‘‘عرض کی : ’’پھر کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیری ماں۔ ‘‘عرض کی : ’’پھر کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’تیرا باپ۔ ‘‘([2])
والدین اپنی اولاد کے بارے میں جو دعا مانگتے ہیں وہ مقبول ہوتی ہے جیساکہ اِس حدیث پاک میں ماں کی دعا مقبول ہونے کا ذکر ہےاور والد کی دعا کے بارے میں حضرت سَیّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’تین قسم کی دعائیں مقبول ہیں اور اُن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : (۱)مظلوم کی دعا(۲) مسافر کی دعا (۳) باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دعا۔ ‘‘([3])
مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کام زیادہ اہم ہو پہلے اسے کیا جائے ، جیسے نوافل ادا کرنے کے مقابلے میں والدین کا حکم ماننا اہم ہے ا س لئے پہلے ان کا حکم مانا جائے بعد میں نوافل ادا کئے جائیں ، اسی طرح خود پر اور اہل و عیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے اہم ہے اِس لئے پہلے اِن پر خرچ کیا جائے بعد میں دوسروں پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اچھا صدقہ وہ ہے جس کے بعدمال داری قائم رہے (اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع