30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
داروں اور منصب والوں کو میدان محشرمیں روکاجائے گا کیونکہ اُن کے اَموال کی کثرت ، منصب کی وُسعت ، دنیا میں مال و منصب سے لذت اٹھانے اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق اِن سے لطف اندوز ہونے کی وجہ سے اُن کا حساب طویل ہو گا کہ دنیا کے حلال کا حساب ہے اور حرام کا عذاب ہے ، جبکہ فقراء اِس سے بری ہوں گے کہ نہ تو ان کا حساب ہو گا اور نہ ہی انہیں روکا جائے گابلکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور یہ اُن کے لئے آخرت میں اِس کی جزا ہے جو انہوں نے دنیامیں مال اور منصب نہ پایا۔ ‘‘([1])
جہنم میں عورتوں کی زیادتی کے اَسباب:
جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہونے کے اَحادیث میں کئی اَسباب بیان فرمائے گئے ہیں ، چند اَسباب یہ ہیں : (1)عورتیں بہت زیادہ لعن طعن کرتی ہیں۔ (2) عورتیں شوہر کی ناشکری بہت کرتی ہیں۔ (3) عورتیں اِحسان فراموشی کرتی ہیں ۔ چنانچہ حضرت سَیّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد) عورتوں کے پاس سے گزرےتوارشاد فرمایا : ’’اے عورتوں کے گروہ!صدقہ دو کیونکہ میں نے جہنم میں تمہاری تعداد زیادہ دیکھی ہے۔ ‘‘خواتین نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِس کی وجہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا : ’’(اِس کی وجہ یہ ہے کہ )تم لعن طعن اور شوہر کی ناشکری زیادہ کرتی ہو۔ ‘‘([2])
حضرت سَیّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں نے جہنم کو دیکھاتو آج جیسا دردناک منظر پہلے کبھی نہ دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں اکثر عورتیں ہیں۔ ‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’اُن کے کفر کے سبب۔ ‘‘عرض کی : ’’کیا یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’یہ شوہر کی ناشکری اور اِحسان فراموشی کرتی ہیں ۔ اگر تم اِن میں سے کسی کے ساتھ عمر بھر نیکی کرتے رہو ، پھر اسے تمہاری طرف سے کوئی ذرا سی تکلیف پہنچ جائےتو کہتی ہے : میں نے تمہاری طرف سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ ‘‘([3])
اسلامی بہنوں کے لیے لمحہ فکریہ:
مذکورہ حدیث پاک میں اُن اسلامی بہنوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، جو رب تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کرتیں ، اپنے شوہر کے حقوق کا خیال نہیں کرتیں ، اُن کی نافرمانی کرتی ہیں ، بلا وجہ شرعی اُن کو ایذاء دیتی ہیں ، ایک دوسرے پر لعن طعن کرتی ہیں ، اُنہیں ڈر جانا چاہیے۔ ذرا غور تو کیجئے! دنیا کی آگ ہم سے برداشت نہیں ہوسکتی ، غلطی سے جلتی ہوتی ماچس کی تیلی اگر ہاتھ پر لگ جائے تو جلن سے چیخ اٹھتے ہیں ، جہنم کی آگ کیسے برداشت کریں گے؟جو دنیا کی آگ کے مقابلےمیں ستر گناہ زیادہ سخت ہے۔ اب بھی وقت ہے ، رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرلیجئے ، اگر اپنے شوہر کی بلا وجہ شرعی دل آزاری کی ہے تو اُن سے معافی مانگ لیجئے ، ایک دوسرے پر لعن طعن کرنا چھوڑ دیجئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا والے کاموں میں لگ جائیے ، اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہو جائے گا۔ اگر آپ نیک بننا چاہتی ہیں ، گناہوں سے جان چھڑانا چاہتی ہیں تو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس مدنی ماحول کی برکت سے پابندسنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا ذہن بنے گا اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ ۔ ربّ تعالیٰ ہمیں نیکیوں پر استقامت اور گناہوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
’’مسکین ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)مسکین لوگ بڑی فضیلت کے حامل ہیں کہ قیامت کے دِن مال داروں سے پہلے جنت میں جائیں گے اور اُن کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔
(2)سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسکینی کی حالت بہت محبوب تھی اورآپ اِس کی دعا بھی مانگا کرتے تھے ۔
(3)مسکینوں سے محبت رکھنی اور اُن کی قدر کرنی چاہیے اور اگر یہ کسی چیز کا سوال کریں تو وہ انہیں دے دینی چاہیے ، جھڑکنا نہیں چاہیے۔
(4)کل بروزِ قیامت مالدار اپنے مال وغیرہ کے حساب کے سبب پیچھے رہ جائیں گے اور مسکین مال نہ ہونے کے سبب حساب کتاب سے آزاد ہوکر پہلے جنت میں پہنچ جائیں گے۔
(5)لعن طعن ، ناشکری اور اِحسان فراموشی جہنم میں لے جانے والے اَسباب ہیں ، تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو اِن بُرے افعال سے بچنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مساکین سے محبت رکھنے ، اُن کی قدر کرنے ، اُن کی مالی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور کل بروز ِقیامت ہمیں اُن کے ساتھ جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع