30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ بھی یاد رہے کہ انسان دنیا میں اچھے یا بُرے جو بھی اَعمال کرتا ہے ، اُن کے بارے میں عمومی قانون یہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں میزا نِ عمل میں تولا جائے گا ، پھر جس کی نیکیوں کا وزن زیادہ ہو گا تو اُسے جنت میں داخلے کی صورت میں کامیابی نصیب ہو گی اور جس کی نیکیوں کاوزن کم ہو گاتو وہ جہنم کے عذاب کا حقدار ہو گا اور جس کی نیکیوں میں کچھ بھی وز ن نہ ہوگاتووہ ہمیشہ کے لئے داخل جہنم ہو کر سب سے زیادہ خسارے میں رہے گا ، چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸) وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ (پ۸ ، اعراف : ۸ ، ۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلّے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچےاور جن کے پلے ہلکے ہوئے تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے :
فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۶) فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ(۷) وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۸) فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ(۹) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ(۱۰) نَارٌ حَامِیَةٌ۠(۱۱) (پ۳۰ ، القارعۃ : ۶تا۱۱) ترجمۂ کنزالایمان : تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں وہ تو من مانتے عیش میں ہیں اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہےاور تو نے کیا جانا کیا نیچا دکھانے والی ایک آ گ شعلے مارتی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ایمان اور اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے پر استقامت عطا فرمائے اوراپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اِیمان اور اِخلاص کے بغیر مال و دولت اور صحت و جسامت کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہے۔
(2)کفار نیک اَعمال کی مشقت اُٹھانے کے باوجود قیامت کے دن سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے ۔
(3)کفر ونفاق سے نیک عمل برباد وباطل ہوجاتا ہے اور ریاکاری سے عمل کا ثواب نہیں ملتا۔
(4)ایمان اور اخلاص سے خالی نیکیاں قیامت کے دن وزن سے خالی ہو ں گی۔
(5)نیکیوں میں وزن کم ہونا جہنم میں داخلے کا سبب ہے اور وزن بالکل نہ ہونا ہمیشہ کے لئے دخول جہنم کا سبب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے ، کل بروزِقیامت بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 256 مسجد کے غریب خدمتگار کا اعزاز
وَعَنْهُ : اَنَّ امْرَاَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ المَسْجِدَ اَوْ شَابّاً فَفَقَدَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاَلَ عَنْهَا اَوْ عَنْهُ فَقَالُوْا : مَاتَ قَالَ : اَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي فَكَاَنَّهُمْ صَغَّرُوْا امْرَهَا اَوْ اَمْرَهُ فَقَالَ : دُلُّوْنِي عَلَى قَبْرِهٖ فَدَلُّوْهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ : اِنَّ هذِهِ الْقُبُوْرَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى اَهْلِهَا وَاِنَّ اللهَ تَعَالٰى يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِيْ عَلَيْهِمْ. ([1])
ترجمہ : حضرت سِیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک حبشی عورت یا نوجوان مسجد میں جھاڑو لگایا کرتے تھے ، ایک بار رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس عورت یا نوجوان کو نہ پایا تو دریافت فرمایا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’ تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟‘‘(راوی کہتے ہیں : )شایدصحابہ كرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس عورت یا نوجوان کا معاملہ معمولی سمجھا تھا۔ (جس كی وجہ سے اطلاع نہ دی)پھر ارشاد فرمایا : ’’مجھے ا س کی قبر پر لے چلو۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس کی قبر پر لے گئے تو آپ نے اس کی قبرپر نماز پڑھی ، پھر ارشاد فرمایا : ’’بے شک یہ قبریں اپنی میتوں پر ظلمت سے بھری ہوئی ہیں اور بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِن پر میرے نماز پڑھنے کی برکت سے قبروں کو منور فرما دےگا۔ ‘‘
مذکورہ حدیث پاک میں مسجد کی صفائی کرنے اور جھاڑو لگانے کی خدمت سر انجام دینے والے کو ملنے والے اِعزاز کا ذکر ہوا ، اِس سے معلوم ہوا کہ مسجد کی صفائی کرنا بڑی فضیلت کا حامل ہے اوریہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی خدمت بیکار نہیں جاتی بلکہ اس کی برکتیں قبر میں بھی نصیب ہوتی ہیں اور حشر میں بھی نصیب ہوں گی ، ترغیب کے لئے مسجد کی صفائی کرنے کے فضائل ملاحظہ ہوں : (1)مسجدمیں جھاڑو دینا اور ا س کی صفائی کرنا کامل ایمان والوں کی نشانی ہے ، چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پارہ۱۰ ، سورۂ توبہ ، آیت ۱۸میں ارشاد فرماتا ہے :
[1] بخاری ، کتاب الصلوۃ ، باب كنس المسجد ۔ ۔ ۔ الخ ، حدیث۴۵۸ ، ۱ / ۱۷۴ ، مسلم ، کتاب الجنائز ، باب : الصلوۃ علی القبر ، حدیث۹۵۶ ، ص۴۷۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع