30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور قدر ومنزلت نہ ہو گی۔ ‘‘([1])
عمل کی مقبولیت کے لئے درکار تین چیزیں:
یاد رہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں وہ نیک عمل مقبول ہے جو ایمان کی حالت میں ، تمام حقوق و آداب کے ساتھ ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے کیاگیا ہو چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹) (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔
صدرُ الاَفاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں : ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں : ایک تو طالبِ آخرت ہونا یعنی نیت نیک۔ دوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔ تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ‘‘([2])
اس سے واضح ہوا کہ جسےمنصب ، مرتبہ ، مال و دولت اور جسمانی صحت جیسی نعمتیں ایمان کی حالت میں اورشریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے حاصل ہوں ، نیزوہ اُن کا استعمال شریعت کے اَحکامات کے مطابق کرے تواُسے قیامت کے دن یہ نعمتیں کام آئیں گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسے شخص کی قدر ومنزلت بھی ہو گی اور جسے یہی نعمتیں کفرو نفاق کی حالت میں اورشریعت کے اَحکامات کی مخالفت کر کے حاصل ہوں ، یونہی وہ اُن کا استعمال بھی احکامِ شریعت کے بر خلاف کرےتو قیامت کے دن اُسے اِن سے کچھ فائدہ نہ ہو گا بلکہ یہ اُس کے لئے وبالِ جان بن جائیں گی اوراِن نعمتوں کے حامل کافر ومنافق شخص کی بارگاہِ الٰہی میں کوئی حیثیت نہ ہو گی۔
کافروں اور ریاکاروں کےاعمال کا حال:
وہ لوگ جوکفر کی حالت میں نیک اعمال کر کر کے تھکےاور یہ اُمید لگائے بیٹھے ہوں کہ ان اعمال پر انہیں فضل و انعامات سے نوزا جائے گا ، اسی طرح وہ لوگ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے اور اپنی واہ واہ کروانے کے لئے نیک اعمال کرنے کی مشقت اٹھاتے ہوں ، قیامت کے دن ان کے یہ اعمال باطل ، مَردود اور بے وزن ہوں گے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵) (پ۱۶ ، الکھف ، ۱۰۳ تا۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) ہے تو ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے ۔
اوراخلاص کی دولت سے محروم شخص کی مثال بیان کرتے ہوئے مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴) (پ۳ ، البقرۃ : ۲۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔
اس آیت میں بیان کی گئی مثال کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں : ’’یہ منافق ریا کار کے عمل کی مثال ہے کہ جس طرح پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن بارش سے وہ سب دور ہو جاتی ہے خالی پتھر رہ جاتا ہے یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روزِ قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ رِضائے الٰہی کے لئے نہ تھے۔ ‘‘([3])اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے حال پر رحم فرمائے اوراِخلاص کی دولت عطا فرمائے۔ آمین
نیک اَعمال میں وزن نہ ہونے کا انجام:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع