30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہوا کہ متکبرین جہنم میں جائیں گے ، خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے ، تکبر ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، سب سے پہلے تکبر شیطان نے کیا ، جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے اپنے تکبرکے سبب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ نہ کیا ، اسی تکبر کے سبب اس کی تمام ریاضتیں تباہ وبرباد ہوگئیں ، ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن گئی ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑگیا اور وہ جہنم کے دائمی عذاب کا مستحق ٹھہرا ، تکبر کا علم سیکھنا فرض ہے ، تکبر سے بچنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے ، جبکہ متکبر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ناپسندیدہ بندہ ہے ، رب تعالیٰ متکبرین کو سخت ناپسند فرماتا ہے ، متکبر کو بدترین شخص قرار دیا گیا ہے ، تکبر کرنے والے کو کل بروزِ قیامت ذِلَّت ورُسوائی کا سامنا ہوگا ، متکبر رحمت الٰہی سے محروم ہے ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا ، الغرض تکبر میں کوئی بھلائی نہیں ، فقط نقصان ہی نقصان ہے۔
اپنے آپ کو تکبر سے بچائیے ، اپنے اندر عاجزی پیدا کیجئے کہ عاجز بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بہت پسند ہے ، تکبر میں ذلت جبکہ عاجزی میں عزت وعظمت ہے ، ہمارے پیارے آقا حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی تکبر نہ فرمایا ، بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ عاجزی وانکساری کا درس دیا۔ یقینا ً سمجھدار ہے وہ شخص جو اپنے آپ کو تکبر سے بچاتا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیےعاجزی وانکساری کو اپنا تا ہے ، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا ہے ، اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو زمین پر اکڑکر چلتا ، اپنے آپ کو افضل اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے نجات عطا فرمائے ، آمین۔ تکبر کی علامات اور علاج کی تفصیل کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۹۷صفحات پر مشتمل کتاب ’’تکبر‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی قدرتِ کاملہ سے مخلوق میں سے جسے چاہے جو چاہے طاقت عطا فرمادے۔
(2)ظالم وجابر اور متکبر لوگ جہنم کی زینت ہیں جبکہ کمزور اور مسکین لوگ جنت کی زینت ہیں۔
(3)ظلم وتکبر میں کوئی خیر نہیں ، اُن سے بچنے میں ہی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
(4)جنت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت وجمال اورجہنم اُس کے قہر وجلال کا مظہر ہے۔
(5)جنت اور جہنم انتہائی وسیع و عریض ہیں اور قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان دونو ں کو بھر دے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے وہ ہمیں نیک اعمال کرنے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں تکبر جیسے موذی مرض سے نجات عطا فرمائے ، جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 255 مچھر کے پر کے برابر وزن نه هو گا
وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّهُ لَيَاْتِي الرَّجُلُ السَّمِيْنُ الْعَظِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ. ([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک قیامت کے دن ایک بڑااورموٹا آدمی آئے گا جس کاوزن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا۔ ‘‘
مچھر کے پرکے برابر وزن نہ ہونے کا مطلب:
ا س حدیث پاک میں عظیم سے مراد مال و دولت اور منصب و مرتبے والا جبکہ سمین سے موٹا اور صحت مند آدمی مراد ہے اوربعض شارحین کے نزدیک اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں اس نے جو نیک اعمال(کفر کی حالت میں یا اخلاص کے بغیر) کئے ہوں گے قیامت کے دن اُن کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گااور بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن (کفر اور نفاق کی وجہ سے)اس کی ذلت و حقارت کا یہ حال ہو گاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مچھر کے پر کےبرابر بھی ا س کی کوئی حیثیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع