30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 254 جنت اور جہنم کی بحث
وَعَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِحْتَجَّتِ الْجَنَّةُ والنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ : فِيَّ الْجَبَّارُوْنَ وَالمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : فِيَّ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَمَسَاكِيْنُهُمْ فَقَضَى اللهُ بَيْنَهُمَا اِنَّكِ الْجَنَّةُ رَحْمَتِي اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَاِنَّكِ النَّارُ عَذَابِي اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا. ([1])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جنت اور جہنم میں بحث ہوئی تو جہنم نے کہا : مجھ میں جابر اور متکبر لوگ ہیں اور جنت نے کہا : مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ ہیں۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا کہ اے جنت!بے شک تومیری رحمت ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنے بندوں میں سے ) جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا اور اے جہنم!بے شک تومیرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں(اپنی مخلوق میں سے) جس کو چاہوں عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘
جنت و جہنم کا کلام کرنا ممکن ہے:
حدیث پاک میں جنت اور جہنم کی باہمی بحث کا ذکر ہوا ، اس کے متعلق عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’یہ ممکن ہے کہ جنت اور جہنم کی بحث حقیقی طور پر ہوئی ہو (اور اس کی صورت یہ بنی ہو) کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان میں حیات ، فہم اور کلام کی صلاحیت پیدا فرما دی ہو (اور اس صلاحیت کی بنا پر انہوں نے باہم کلا م کیا ہو)کیونکہ اس پر دلائل قائم ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (اپنی جس مخلوق میں چاہے) یہ چیزیں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ ‘‘([2])
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت سے ارشاد فرمایا کہ ’’تو میری رحمت ہے۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جنت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ظاہر ہونے کی جگہ ہے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’شرح السنہ میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت کو اپنی رحمت فرمایا کیونکہ ا س کے ذریعے رحمتِ الٰہی ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا : میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا۔ ‘‘ ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اُس کی اُن صفات میں سے ہے جن سے وہ ہمیشہ سے متصف ہے ، نہ اس کی کوئی صفت حادث (یعنی فنا ہونے والی) ہے ، نہ ہی کسی حادث (یعنی فنا ہونے والی)چیز کانام ہے اوروہ اپنے تمام اسماء اور صفات کے ساتھ قدیم(یعنی ہمیشہ ہمیشہ)سے ہے۔ “ معالم “ میں ہے : رحم فرمانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھلائی کے حق دار کے لئے خیر کا ارادہ فرمائے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سزا کے مستحق کو سزا نہ دینا اور غیر مستحق کے ساتھ بھلائی کرنا ہے۔ ‘‘([3])
جہنم قہر اور غضبِ الہی کا مظہرہے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم سے ارشاد فرمایاکہ ’’تو میرا عذاب ہے ۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جہنم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ملنے والی سزا ، اس کی ناراضی ، قہر اور غضب ظاہر ہونے کا مقام ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت و جہنم اورمومن و کافر ، جمال اور جلال کے کامل مظاہر ہیں ۔ ‘‘([4])
جنت اور جہنم کو بھرنے کی صورت:
حدیثِ پاک کے آخر میں جنت و جہنم سے ارشاد ہوا کہ’’ تم دونوں کو بھرنا میرے ذمہ ہے۔ ‘‘جنت کو بھرنے کی صورت یہ ہوگی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جس سے جنت کو بھرا جائے گا اور جہنم کو بھرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جہنم میں اپنی شان کے لائق قدم رکھے گا جس سے وہ بھر جائے گی۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ جہنم میں مسلسل لوگ ڈالے جا رہے ہوں گے اور وہ کہہ رہی ہو گی کہ کیا کچھ اور زیادہ ہیں؟یہاں تک کہ رب العزت(اپنی شان کے لائق)اس میں اپنا قدم رکھ دے گا ، پھر جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے مل جائے گا اور وہ کہے گی : بس ، بس ، تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم!اور جنت میں مسلسل جگہ اضافی رہے گی ، حتی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا اور اسے جنت کے اضافی حصے میں رکھے گا۔ ‘‘([5])
[1] مسلم ، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ، باب النار یدخلھا الجبارون۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۵۲۴ ، حدیث : ۲۸۴۶ ۔
مسند امام احمد ، مسند ابی سعید الخدری ، ۴ / ۱۵۹ ، حدیث : ۱۱۷۵۴۔
[2] شرح ابن بطال ، کتاب التوحید ، باب قولہ تعالیٰ : ان رحمت اللہ قریب من المحسنین ، ۱۰ / ۴۷۱۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ، باب صفۃ النار واھلھا ، ۹ / ۶۶۲ ، تحت الحدیث : ۵۶۹۴۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ، باب صفۃ النار واھلھا ، ۹ / ۶۶۲ ، تحت الحدیث : ۵۶۹۴۔
[5] مسلم ، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ، باب النار یدخلھا الجبارون۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۵۲۵ ، حدیث : ۲۸۴۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع