دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

بہتر ہے۔ ‘‘

قریب سے گزرنے والے دو اَفراد کا تعارف:

حضرت سَیِّدُنا علامہ بد ر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ  گزرنے والا پہلا شخص مسلمان اور اپنی قوم میں معززآدمی تھا جبکہ دوسرے شخص  کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حضرت سَیِّدُنا  جُعَیل بِن سُراقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے  جو سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاَصحاب اور رب تعالیٰ کے نیک و صالح بندوں میں سے تھے ۔ ‘‘([1])بعض نے یہ لکھا ہے کہ پہلے شخص حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے ۔ ([2])

دنیا داروں کی نظر  میں فضیلت کا معیار:

اِس حدیث پاک  سے معلوم ہوا کہ لوگ مال کو شرافت سمجھتے  اور مالدار کو شریف جانتے ہیں خواہ وہ کیسا ہی بدتر  کیوں نہ ہو جبکہ غریب فقیر مسلمانوں کو کسی اچھے سلوک  کا حق دار نہیں سمجھتے اگرچہ وہ کتنا ہی پرہیز گار ، اِطاعت شعار اور عبادت گزار ہو۔ یاد رہے کہ  کسی شخص کے معزز اور شریف ہونے کا یہ معیار بنانا اور دولت کو پیمانہ بنا کر اُس کے ذریعے عزت و شرافت کو پرکھنا کسی طور پر درست نہیں ، عقلی طور پر ا س لئے کہ  مالداروں میں  سرکشی ، تکبر ، غرور اور جبر و ظلم بہت ہوتا ہے  اور اِن  بدترین خرابیوں  والے انسان کو عقل سلیم رکھنے والا شخص کبھی معزز  اور شریف نہیں سمجھے گا جبکہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی دُنیوی عزت و شرف ،  مال و دولت ، مرتبہ  ومنصب ، حسب ونسب ، شکل وصورت ، لباس اور رہائش گاہ نہیں دیکھی جاتی بلکہ اُس کی بارگاہ میں پرہیز گاری ، دل اور اَعمال کو دیکھا جاتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے :

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-    (پ۲۶ ، الحجرات : ۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان : اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت  سے پیدا کیا  اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھوبیشک  اللہ  کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔

ایک اور مقام پررب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ(۵۵) نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِؕ-بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۵۶)                    (پ۱۸ ، المومنون : ۵۵  ، ۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان : کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سےیہ جلد جلد ان کو بھلائیاں  دیتے ہیں  بلکہ انہیں خبر نہیں۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے :

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًاۙ-وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ(۳۵) قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۳۶) وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا٘-فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ(۳۷) (پ۲۲ ، السبا ، ۳۵ تا۳۷)

 ترجمۂ کنزالایمان : اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لئے چاہے اور تنگی فرماتا ہے   لیکن بہت لوگ نہیں جانتے  اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قرب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی   ان کے لئے دونا دون (کئی گنا) صلہ  ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں۔

 حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔ ‘‘([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس! ہمارے معاشرے میں بھی یہ وبا عام ہے   کہ جس کے پاس  دولت ، کوئی بڑا عہدہ یا منصب وغیرہ ہو تووہ لوگوں کی نظر میں انتہائی معزز ہوتا ہے اگرچہ   کتنا ہی بڑ ا رب تعالیٰ کا نافرمان ہو۔ جبکہ غریبوں کو  کسی اچھے سلوک کا حق دارسمجھنا تو دور کی بات ، اُن سے سیدھے منہ بات کرنا  بھی گوارا نہیں کیا جاتا اگرچہ وہ غریب شخص کتنا ہی نیک متقی اور پرہیز گار ہو۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّتمام مسلمانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے دِین دار غریب مسلمانوں کی قدر کرنے اور ان کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

فقیر مسلمان کے افضل ہونے کی وجہ:

حدیث پاک میں  فرمایا گیا کہ  ’’جس کی تو نے تعریف کی اگر ایسے آدمیوں سے روئے زمین بھر جائے تو ان سب سے یہ آخری اکیلا آدمی افضل و اعلیٰ  اور اشرف ہے۔ ‘‘اس سے معلوم ہوا کہ دیندار فقیر دنیادار مسلمان سے افضل ہے ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شارح حدیث ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’فقیر کا دل صاف ہوتا ہے  جس کی وجہ سے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاحکم قبول کرنے اور ا س کی محبت کے مرتبے تک پہنچنے کے زیادہ قریب ہوتا ہے جبکہ بیوقوف مالدارسرکش ، بے پرواہ ، متکبر اور مغرور ہوتا ہے  اور اس



[1]   عمدۃ القاری ، کتاب النکاح ، باب الاکفاءفی الدین ، ۱۴ / ۳۵ ،  تحت الحدیث : ۵۰۹۱۔

[2]    ارشادا لساری ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقر ، ۱۳ / ۵۲۶ ، تحت الحدیث۶۴۴۷ ۔

[3]   مسلم  ، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم ظلم المسلم ۔ ۔ ۔ الخ ،  ص۱۳۸۷ ،  حدیث : ۲۵۶۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن