30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘ ([1]) (3)’’میرے نزدیک قابل رشک مسلمان وہ ہے جس کے پاس دنیا کا مال بہت کم ہو ، کثرت سے نماز پڑھتا ہو ، لوگوں سے اس کا حال چھپا ہوا ہو ، لوگ ا س کی کچھ پرواہ نہ کرتے ہوں ، گزارے کے مطابق ملنے والی روٹی پر قناعت کرتا ہو ، اس کی موت جلد آ جائے ، اس کے وارث اور اس پر آنسو بہانے والے افراد زیادہ نہ ہوں۔ ‘‘([2])
جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے اکثرافراد:
مذکورہ حدیث پاک میں جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہے اور مراد یہ ہے کہ جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ ان دو قسموں کے ہوں گے ، چنانچہ علامہ بد ر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : ’’یہاں مراد یہ ہے کہ اکثر اہل جنت اور اکثر اہل جہنم یہ لوگ ہوں گے ، یہ مراد نہیں ہے کہ صرف ان دونوں قسموں کے تمام افراد جنت اور جہنم میں داخل ہوں گے ، اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر کمزور اہل جنت میں سے ہے اور اس کا عکس لازم نہیں آتا(یعنی اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ جو کمزور نہ ہو وہ جنتی نہیں) اور یہی معاملہ اہل نار کا ہے( کہ بد زبان ، بخیل اور متکبر جہنم میں جائے گا لیکن اس کا عکس لازم نہیں کہ جو ایسا نہ ہو وہ جہنم میں نہ جائے گا)۔ ‘‘([3])
’’اولیاء ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو یہ شان بھی عطا فرماتا ہے کہ جب وہ کسی بات پر قسم اٹھالیں تو ربّ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرماتا ہے۔
(2)جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ولیوں کو عظمت عطا فرمائی ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ان مقدس ہستیوں کا ادب واحترام کریں اور ان کی عزت وعظمت ہی کو بیان کریں۔
(3)مسلمانوں کے ساتھ عاجزی و انکساری سے پیش آنا اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کا ذریعہ ہے جبکہ تکبر اور ظلم کرنا پستی میں مبتلا ہونے کا سبب ہے ۔
(4)رب تعالیٰ اپنی بارگاہ کے مقرب بندوں کو عزت وعظمت اور کرامات سے نوازتا ہے۔
(5)بزرگوں سے نعمتِ الٰہی مانگنا جائز ہے اور ان سے دعائے مغفرت کروانا چاہیے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی باتوں کو پورا فرما تاہے۔
(6)بد زبانی ، بخل اور تکبر ایسے مذموم افعال ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جہنم میں بھی داخل کیا جا سکتا ہے ، لہذا ان مذموم اور قبیح افعال سے بچنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کی بھی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جنت میں لےجانے والے اعمال کرنے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 253 فقیر مسلمان کی فضیلت
وَعَنْ اَبِيْ الْعَبَّاسْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَاليٰ عَنْهُ ، اَنَّهُ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍمَا رَاْ يُكَ فِي هٰذَا؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ اَشْرَافِ النَّاسِ : هٰذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ يُنْكَحَ وَاِنْ شَفَعَ اَنْ يُشَفَّعَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا رَاْيُكَ فِي هٰذَا؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ لا يُنْكَحَ وَاِنْ شَفَعَ اَنْ لَّا يُشَفَّعَ وَاِنْ قَالَ اَنْ لَّا يُسْمَعَ لِقَوْلِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْاَرْضِ مِثْلَ هَذَا.([4])
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب سے ایک آدمی گزراتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے ارشاد فرمایا : ’’اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘اس نے عرض کی : ’’یہ مالدار لوگوں میں سے ایک شخص ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح کر دیا جائے ، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کر لی جائے۔ ‘‘یہ سن کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو گئے۔ پھر ایک دوسرا آدمی گزراتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسی شخص سے استفسار فرمایا : ’’اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ فقیر مسلمانوں میں سے ایک شخص ہے اور اس چیز کا حق دار ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے ، اگر سفارش کرے تو ا س کی سفارش قبول نہ کی جائے اوراگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ ‘‘یہ سن کر رسول اکرم شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’یہ فقیر اُس (پہلے آدمی) جیسے روئے زمین کےتمام انسانوں سے
[1] حلیۃ الاولیاء ، مقدمۃ المصنف ، ۱ / ۴۶ ، حدیث : ۱۔
[2] ابن ماجۃ ، کتاب الزھد ، باب من لا یؤب لہ ، ۴ / ۴۳۰ ، حدیث : ۴۱۱۷۔
[3] عمدۃ القاری ، کتاب الایمان والنذور ، باب : فی قولہ تعالیٰ : واقسموا باللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۵ / ۷۰۶ ، تحت الحدیث : ۶۶۵۷۔
[4] بخاری ، کتاب الرقاق ، باب فضل الفقر ، ۴ / ۲۳۳ ، حدیث : ۶۴۴۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع