30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ضَعِيْف‘‘ یعنی کمزورکے معنی:
شارِحین نے حدیثِ پاک کے لفظ ضَعِيْفیعنی کمزورکے مختلف معانی بیان فرمائے ہیں ، اِن میں زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اِس سے وہ شخص مراد ہے جس میں تکبر اور ظلم و جبر نہ ہو۔ چنانچہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ضعیف سے مراد وہ شخص ہے جو متکبر اور ظالِم وجابِر نہ ہو۔ ‘‘([1])
رب تعالیٰ کو طاقتور مسلمان پسند ہیں:
معلوم ہوا کہ یہاں کمزورسے مراد وہ شخص نہیں جو جسمانی اعتبار سے کمزور ہو اور اس میں طاقت و قوت نہ ہو کیونکہ قوی اور طاقتورمسلمان تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہیں۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’طاقتور مومن بہتر ہے اور وہ کمزور مومن سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہے۔ ‘‘([2])
مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْر حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں کہ ’’تندرستی و صحت اور مضبوط بدن والا مسلمان کمزور بیمار مُسلمان سے زیادہ اچھا ہے کہ تندرست مسلمان نماز وروزہ حج بلکہ جہاد وغیرہ عبادات بے تکلف کرسکتا ہے۔ لہٰذا مسلمان بیمار رہنے کی تمنا نہ کرے بیماری کا فوراً علاج کرکے تندرست ہوجائے۔ ‘‘([3])
’’ مُتَضَعَّف‘‘کمزور سمجھا جانے والا شخص:
علامہ بدرُ الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’مُتَضَعَّفسے مراد وہ شخص ہے جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں اور اس کا دُنیوی حال اچھا نہ ہونے کی وجہ سے اسے حقیر بھی جانتے ہوں۔ ‘‘([4])
شارِحین نے اِس لفظ کا ایک اِعراب ’’مُتَضَعِّف‘‘بھی بیان کیا ہے ، اِس صورت میں اس سے مراد وہ شخص ہو گا جومسلمانوں کے ساتھ عاجزی و اِنکساری سے پیش آئے اگرچہ وہ اپنے دشمنوں(یعنی کفار)کے ساتھ طاقت و قوت کا مظاہرہ کرے(اِس کی تائید اِس آیت سے ہوتی ہے جس میں) ارشاد ہوتاہے :
وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ )پ۲٦ ، الفتح : ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
ایک اور آیتِ مبارکہ میں ارشاد ہوتاہے :
اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘- (پ۶ ، المائدہ : ۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان : مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔
یہ لکھنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس میں اشارہ ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے ساتھ جتنا زیادہ عاجزی اور انکساری سے پیش آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ مقرب بندوں کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوگا اور جو جتنا زیادہ تکبر اور ظلم کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ پست مقام پر ہو گا۔ ‘‘([5])
دینی اعتبار سے مضبوط مسلمانو ں کا مقام:
اس حدیث پاک میں دنیوی اعتبار سے کمزور ، غریب اور گمنام جبکہ دینی اعتبار سے مضبوط مسلمانوں کی فضیلت اور اُن کا مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ جنتی لوگوں میں سے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسے بلند مقام پر فائز ہیں کہ اگر وہ اس کے فضل وکرم پر اعتماد کرتے ہوئے کسی کام کے متعلق قسم کھا لیں مثلًا اگر وہ کسی سے کہہ دیں کہ خدا کی قسم! تیرے ہاں بیٹا ہوگا ، یا خدا کی قسم! آج بارش ہو گی ، یا خداکی قسم! فلاں اسلامی لشکر کو فتح حاصل ہوگی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی قسم ضرور پوری فرمادے گا اور ضرور اس کے ہاں بیٹا ہوگا ، ضروراس دن بارش ہو گی ، ضرور لشکر اسلام کو فتح حاصل ہو گی ، یونہی اگر وہ کسی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کر دیں تووہ ان کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ ان کے فضائل پرمشتمل تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو جنت کے بادشاہ ہیں؟‘‘ عرض کی گئی : ’’کیوں نہیں۔ ‘‘ فرمایا’’وہ کمزور اور ناتواں شخص(جنت کا بادشاہ ہے)جو پھٹے پرانے کپڑے پہنتا ہو اور لوگ ا س کی پرواہ نہ کرتے ہوں لیکن اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بھروسے پر کسی چیز کی قسم کھا لے تووہ اسے پورا فرما دے گا۔ ‘‘ ([6]) (2)’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب بندے وہ ہیں جو پرہیز گار اور کم مال والے ہیں ، جب وہ غائب ہو جائیں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے اور جب وہ حاضر ہوں تو انہیں پہچانا نہ جائے ، یہی لوگ ہدایت کے امام اور
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الغضب والکبر ، تحت الحدیث۵۱۰۶ ، ۸ / ۸۲۷۔
[2] مسلم ، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃوترک العجز۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۴۳۲ ، حدیث : ۲۶۶۴۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۱۲۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب الایمان والنذور ، باب : فی قولہ تعالیٰ : واقسموا باللّٰہ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۵ / ۷۰۶ ، تحت الحدیث : ۶۶۵۷۔
[5] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الغضب والکبر ، ۸ / ۸۲۷ ، تحت الحدیث : ۵۱۰۶۔
[6] ابن ماجۃ ، کتاب الزھد ، باب من لا یؤبہ لہ ، ۴ / ۴۲۹ ، حدیث : ۴۱۱۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع